امرناتھ گھپاکے نزدیک پھنسے یاتریوںکی انخلاء کاکام مکمل

15ہزارپنجترنی بیس کیمپ منتقل:آئی ٹی بی پی ،کئی بیمار اورزخمی یاتری نیل گراٹھ بیس کیمپ منتقل:بی ایس ایف

سری نگر//سطح سمندر سے تقریباً4ہزارمیٹرکی بلندی پرواقع امرناتھ غار کے قریب بادل پھٹنے سے آنے والے سیلاب کی وجہ سے یہاں پھنسے لگ بھگ 15ہزار یاتریوں کو ہفتہ کے روز پنجترنی کے نچلے بیس کیمپ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق آئی ٹی بی پی کے ایک ترجمان نے بتایاکہ بارڈر گارڈنگ فورس نے امرناتھ گھپا کے نچلے حصے سے پنجترنی تک اپنے راستے کھولنے اور حفاظتی جماعتوں کو بھی بڑھا دیا ہے۔خیال رہے امرناتھ گھپا کے قریب آنے والے سیلاب نے جمعہ کی شام سینکڑوں لوگوں کو بہا لیا، کم از کم 16 لوگوں کی موت ہو گئی،کئی زخمی ہوگئے،متعددکے لاپتہ ہونے کااندیشہ ہے اور خیمے اور کمیونٹی کچن بہہ گئے۔انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ 30 جون کو شروع ہونے والی یاترا کو اس سانحے کے بعد معطل کر دیا گیا ہے اور اس کے دوبارہ شروع ہونے کا فیصلہ ریسکیو آپریشن ختم ہونے کے بعد کیا جائے گا۔انہوںنے بتایاکہ زیادہ تر یاتری، جو جمعے کی شام آنے والے سیلاب کی وجہ سے گھپاکے قریب پھنسے ہوئے تھے، کو پنجترنی منتقل کر دیا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ یہاں یاتریوں کے انخلاء کا عمل ہفتے کی صبح تقریباً4 بجے تک جاری رہا۔انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ترجمان نے کہا کہ اب ٹریک پر کوئی یاتری نہیں پھنسا ہے۔ اب تک تقریباً 15000 لوگوں کو محفوظ طریقے سے منتقل کیا جا چکا ہے۔بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ترجمان نے کہا کہ پیرا ملٹری فورس کے ڈاکٹروں اور طبی عملے نے سیلاب میں شدید زخمی ہونے والے نو مریضوں کا علاج کیا۔انہوں نے کہاکہ انہیں بچا کر نیچے کی اونچائی والے نیل گراٹھ بیس کیمپ میں پہنچا دیا گیا ہے۔بی ایس ایف کی ایک چھوٹی ٹیم بھی امرناتھ گھپا سے آنے والے یاتریوں کی مدد کے لیے نیل گراتھ ہیلی پیڈ پر تعینات ہے۔انہوں نے کہا کہ جمعہ کی رات پنجترنی میں بنائے گئے بی ایس ایف کیمپ میں تقریباً 150 یاتری ٹھہرے تھے اور 15 مریضوں کو ہفتے کی صبح بال تل پہنچا دیا گیا تھا۔