آمدنی کے وسائل مسدود، اس صورتحال میں انتظامیہ کیلئے سرگرم ہوکر ٹھوس اور موثراقدام اٹھانا لازمی
سرینگر //جموں و کشمیر میں اقتصادی صورتحال مجموعی طورکافی دگر گوں ہیں۔ سرکاری ملازمین کو چھوڑ کرہرطبقہ سے وابستہ افراد روزگا ر کے اعتبا ر سے کافی حد تک متا ثر ہو ئے ہیں۔محنت کشوں کے لئے روزگار کے مواقع اورآمدنی کے ذرایع مسدود ہو کر رہ گئے ہیں اوران محنت کشوں کی ایک بڑی تعداد کو روز گار سے محروم ہو نا پڑا ہے۔یہاں دستکا روں ،کاریگروں،ہنر مندوں اور دیگر قسم کے محنت کشوں کی ایک بڑ ی تعداد آبا د ہے اور گزشتہ تین برسوں سے وہ لوگ نان شبینہ کے محتاج ہوئے ہیں کیونکہ ان کی ما لی حالت مسلسل کشیدہ اور دگر گوں ہو رہی ہے۔جموں و کشمیر میں کام کرنے والے دستکاروںکی خاصی تعداداپنے کام کے ذریعے اپنا روزگار کمارہے تھے ۔ لیکن کورونا وائرس یا دوسرے نامساعد حالات نے دوسرے مزدور طبقہ کے ساتھ ساتھ دستکاری شعبے پر انحصار کرنے والے ہزاروں خاندانوں کی بقا ء کو مشکل بنا دیا ہے ۔اس صورتحال کے بارے میں وادی کے حساس افراد نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایاکہ وادی کشمیر کی موجودہ اقتصادی صورتحال دگر گوں اور ابتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں لوگ مالی بدحالی کے شکار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جن کی روزی روٹی متاثر ہوئی ہے انہیں مالی اعانت فراہم کرنے کے لئے ایک لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اورتاجروں کے لئے ایک سال کے لئے بینک کے قرضوں پر سودمیں رعایت دینا یا معاف کرنا لازمی بن گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حالات اس حدتک بگڑ چکے ہیں کہ تمام ضروری اشیاء کو شامل کرنے کے لئے عوامی تقسیم کے نظام کو بڑھایا جائے۔اس بحرانی صورتحال میں عوام کو عوامی تقسیم کاری نظام کے ذریعے مفت راشن مہیاکرنے کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے ، جن میں غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ موسم گرما کی فصل نہ صرف کاشتکاروں کے لئے اہم ہے بلکہ جموں و کشمیر کی معیشت کی ترقی کے لئے بھی اتنا ہی اہم ہے جس کا زیادہ تر انحصار زرعی اور باغبانی کے شعبوں پر ہے۔لیکن گذشتہ برسوں کے دوران بارشوں ،طوفانی ہوائوں اور خشک سالی کے بعد سینچائی کیلئے پانی کی عدم دستیابی سے کھڑی فصلوںاور میوہ جات کو کافی نقصان پہنچاہے ۔جبکہ میوہ صنعت یہاں کی اقتصادی بحالی کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔لیکن اس میں نقصان باعث پریشانی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بازاروں میں ایسی گراں بازاری ہے کہ خریداری بالکل کم ہوگئی ہے اور اشیائے ضروریہ کی خریداری بھی مشکل بن گئی ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اقتصادی بحران کے بیچ عوامی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ مالی حالات ایک بار پھر پٹری پر آسکتے ہیں۔










