افغانستان: پوست کی کاشت کےخلاف کریک ڈاؤن پر احتجاج طالبان حکومت کیلئے چیلنج

پوست کے کھیتوں کے خاتمے کے معاملے پر ہونے والے مظاہروں کے بعد صوبہ بدخشاں میں پرتشدد جھڑپوں کی تحقیقات کے لیے افغانستان کی عبوری حکومت نے کمیٹی تشکیل دے دی، جس میں دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مقامی افراد کے مطابق بدخشاں کے ضلع دریم میں ایک شخص کی موت ہوئی، جبکہ احتجاج قریبی ضلع آرگو تک پھیل گیا، جس کے نتیجے میں ایک اور شخص ہلاک ہو گیا۔سوشل میڈیا پر مظاہروں کی پوسٹ کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شرکا طالبان حکومت کی کارروائی کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں، دریم کے رہائشیوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان فورسز گھروں میں داخل ہو گئیں اور خواتین کی توہین کی، اس دعوے کی وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین نے تردید کی ہے۔یہ صورتحال طالبان کے لیے ایک چیلنج ہے، کیونکہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ 2 علاقے کے لوگ احتجاج کررہے ہیں۔ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ قیادت نے وزارت قومی دفاع کے چیف آف اسٹاف قاری فصیح الدین فطرت کی قیادت میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے، کمیٹی مکمل تحقیقات اور نتائج کی رپورٹ وزیر اعظم کے دفتر میں جمع کرائے گی۔تاہم، انہوں نے صورتحال کا ذمہ دار مظاہرین کو قرار دیا اور ان پر پوست کی کاشت کے خلاف کام کرنے والے سیکیورٹی فورسز پر حملے کرنے کا الزام عائد کیا۔ذبیح اللہ مجاہد نے ڈان کو بتایا کہ اب صورتحال قابو میں ہے، وفد بدخشاں پہنچ چکا ہے اور صورتحال کو قابو کر لیا گیا ہے۔بدخشاں میں امن طالبان کی حکومت کے لیے اس کے محل وقوع کے پیش نظر اہم ہے، جس کی سرحد چین اور پاکستان کے چترال ضلع کے ساتھ ملتی ہے اور یہ تاجکستان کے قریب واقع ہے۔طالبان حکام پہلے ہی چین کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان کر چکے ہیں، لہٰذا چین کی حساسیت کے پیش نظر علاقے میں امن و استحکام کی ضرورت ہے، جس کے طالبان حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں لیکن اسے سیکیورٹی پر کچھ خدشات ہیں۔افغانستان کے سابق وزیر خارجہ محمد حنیف اتمر نے طالبان کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بدخشاں کے لوگوں کے ساتھ کوئی بھی ناروا سلوک، تشدد اور جبر افغانستان کے تمام لوگوں کے خلاف ظلم ہے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ موجودہ حکومت پر فرض ہے کہ وہ ان مظالم کو روکے اور قوم کے حقوق اور مرضی کی پاسداری کرے۔افغانستان کے سابق انٹیلی جنس چیف رحمت اللہ نبیل نے مظاہروں کو طالبان حکمرانوں کے خلاف ’بغاوت‘ قرار دیا۔