اسکولوں میں استاد کو سر یا میڈم نہیں

صرف ’ٹیچر‘ کہہ کر مخاطب کیا جائے، حقوق اطفال کمیشن کی ہدایت

سرینگر//چائلڈ کمیشن نے کہا ہے کہ سکولوں میں طلبہ کو ٹیچر یو ’’سر یا میڈم‘‘کہنے کے بجائے ٹیچر کہہ کر پکاراجاناچاہئے اس سے ٹیچر اور طلبہ کے درمیان بہتر تال میل بڑھے گا ۔چائلڈ رائٹس کمیشن نے مزید کہا کہ استاد کو سر یا میڈم کے بجائے ’ٹیچر‘ کہنے سے تمام اسکولوں کے بچوں میں برابری برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے اور اساتذہ کے ساتھ ان کا لگاؤ بھی بڑھے گا۔سی این آئی کے مطابق کیرالہ اسٹیٹ کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (کے ایس سی پی سی آر) نے ریاست کے تمام اسکولوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسکول کے بچوں کو ترغیب دیں کہ وہ اساتذہ کو ‘سر’ یا ‘میڈم’ کے بجائے ‘ٹیچر’ کہہ کر مخاطب کریں، چاہے ان کی جنس کوئی بھی ہو۔ کیرالہ چائلڈ رائٹس پینل نے ہدایت کی کہ ‘ٹیچر’ ‘سر’ یا ‘میڈم’ جیسے اصولوں سے زیادہ صنفی غیر جانبدار خطاب کی اصطلاح ہے۔کے ایس سی پی سی آر کے آرڈر میں سر اور میڈم جیسے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پینل کے چیئرمین کے وی منوج کمار اور رکن سی وجئے کمار کی بنچ نے بدھ کو محکمہ تعلیم عامہ کو ہدایت دی کہ ریاست کے تمام اسکولوں میں لفظ ‘استاد’ کا استعمال کیا جائے۔چائلڈ رائٹس کمیشن نے یہ بھی کہا کہ سر یا میڈم کے بجائے ’ٹیچر‘ کہنے سے تمام اسکولوں کے بچوں میں برابری برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے اور اساتذہ کے تئیں ان کا لگاؤ بھی بڑھے گا۔ ذرائع کے مطابق، یہ ہدایت ایک شخص کی طرف سے دائر درخواست پر غور کرتے ہوئے دی گئی ہے جس میں اساتذہ کو ان کی جنس کے مطابق ‘سر’ اور ‘میڈم’ کہہ کر امتیازی سلوک کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔