یورپی ممالک شام میں بشار الاسد کے اقتدار خاتمے کے بعد ہونے والی پیش رفت کی روشنی میں شامیوں کو ’پناہ‘ دینے کی پالیسیوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں، بہت سے شامی شہریوں کو خدشہ ہے کہ انھیں واپس جانا پڑے گا۔ برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یونان سمیت کئی یورپی ممالک کی جانب سے رواں ہفتے شامی شہریوں کی پناہ کی درخواستیں معطل کیے جانے کے بعد ان میں سے ہزاروں درخواستیں روک دی گئی ہیں، یورپی ممالک سوچ رہے ہیں کہ کیا بشار الاسد کے جانے کے بعد اب شام محفوظ ہے؟۔
یورپی یونین کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2015اور 2016میں شامیوں کی جانب سے پہلی بار پناہ کی درخواستیں سب سے زیادہ رہی تھیں، ان میں سے ہر سال 3 لاکھ 30 ہزار سے زیادہ درخواستیں ملیں۔
اگلے 3سال میں پناہ کی درخواستوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، لیکن 2020اور 2023 کے درمیان شام میں تباہ کن زلزلے، تشدد اور معاشی مشکلات جاری رہنے کی وجہ سے درخواستوں میں 3 گنا اضافہ ہوگیا تھا۔
یونان میں موجود شامی شہری نجم الموسیٰ اس وقت بہت خوش ہوئے جب شام کے صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنے کی خبر پہلی بار ایتھنز میں ان کے چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں ٹیلی ویژن سے نشر ہوئی۔
اس کے بعد ایک خوفناک خیال آیا کہ کیا اسد کے زوال کا مطلب یہ ہے کہ وہ اور ان کے اہل خانہ اس تباہ حال ملک میں واپس جانے پر مجبور ہو جائیں گے جہاں سے وہ 9 سال قبل بھاگ کر یونان آگئے تھے؟
شام میں وکالت کے پیشے سے منسلک نجم الموسیٰ جو ایتھنز میں بطور باورچی کام کررہے ہیں، وہ کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں مجھے یہاں زندگی گزارنی چاہیے، میں اکیلا نہیں بلکہ میرے بچے بھی ساتھ ہیں، ہمارا ملک ہمیں یونان جیسی زندگی فراہم کرنے کے قابل نہہں ہے۔ سنہ 2011میں شروع ہونے والی شام کی جنگ میں اب تک لاکھوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، سابق صدر بشار الاسد نے فوج کو مختلف باغی گروپوں کے خلاف کھڑا کر دیا تھا، بمباری کی وجہ سے تمام شہر تقریباً تباہ ہوچکے ہیں۔ یورپ اور برطانیہ میں ’رائٹرز‘ سے بات کرنے والے 10شامی پناہ گزینوں کی سوچ مختلف تھی، ان کے نزدیک شام واپسی کا مطلب ایک نئی زندگی کا خاتمہ ہوگا، جس کی تعمیر کے لیے انہوں نے سب کچھ خطرے میں ڈال دیا ہے۔
نجم الموسیٰ اور ان کی اہلیہ بشریٰ البکال 2015 میں اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کے بعد دمشق چھوڑ کر یونان آگئے تھے، ان کے پاس جو کچھ تھا، وہ 2 سالہ سفر کے دوران خرچ کر بیٹھے، اس سفر میں سوڈان، ایران، ترکیہ سے ہوتے ہوئے وہ لوگ یونان پہنچے، اب ان کے 5 بچے ہیں، جو سب یونان میں اسکول جاتے ہیں، روانی سے یونانی زبان بولتے ہیں، ان میں سے کوئی بچہ اپنی مادری زبان عربی نہیں بول سکتا۔
نجم الموسیٰ کہتے ہیں کہ جب بھی ہم شام واپسی کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو بچے سوال کرتے ہیں کہ ڈیڈی! کیا واقعی ہم ایسے علاقے میں رہنے کے لیے جائیں گے؟ ان کی اہلیہ بشریٰ اپنے چھوٹے بچے کو گود میں اٹھائے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ میں تصور بھی نہیں کرسکتی کہ میرے بچے شام میں اپنا مستقبل بناسکتے ہیں۔
’خوشی اور مایوسی‘
یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پناہ کے متلاشی افراد کو شام میں گھر واپس جانے پر مجبور کیا جائے گا یا نہیں، پناہ گزینوں کو قانونی مدد فراہم کرنے والی ایک جرمن این جی او پروسیل کا کہنا ہے کہ جب تک وزارت خارجہ شام کے بارے میں اپنی تازہ ترین سیکیورٹی جائزہ رپورٹ شائع نہیں کرتی، اس وقت تک مقدمات تعطل کا شکار رہیں گے، جس میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔پروسیل کے ترجمان طارق الاؤس نے کہا کہ اس فیصلے کو قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ یورپ میں حکام کو پناہ کی درخواستیں جمع کروانے کے 3 سے 6 ماہ کے اندر ان پر فیصلہ کرنا ہوگا، اس کے باوجود نجم الموسیٰ کے یونانی رہائشی اجازت نامے کی تجدید ہو رہی ہے اور وہ فکرمند ہیں۔ تاہم اس طرح کی صورت حال سے دو چار وہ واحد شخص نہیں ہیں۔
شامی پناہ گزین ظفر ناہاس نے اسد حکومت کے خاتمے سے صرف 2 دن قبل برطانیہ کے پی ایچ ڈی پروگرام کے لیے درخواست دی تھی، حلب سے تعلق رکھنے والے 34 سالہ ظفر نہاس نے کہا کہ وہ شام میں حکومت مخالف مظاہرے میں حصہ لینے کے بعد ایک مطلوب شخص تھے، ان کے دادا کو 13 سال تک جیل میں رکھا گیا، ان کے بہت سے دوستوں کو حراست میں لیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیں برطانیہ میں پناہ دے دی گئی، لیکن اب وہ پریشان ہیں، اس وقت ان کی اہلیہ بھی حاملہ ہیں۔انہوں نے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ برطانوی حکام ذاتی حالات جانے بغیر کچھ فیصلوں کو اندھا دھند واپس لے سکتے ہیں، اس وقت یہ صورت حال ہماری زندگیوں میں خیالات، غیر یقینی اور غیر ضروری اضافی خدشات کے طوفان جیسی ہے۔










