ملازمت پوراکرنے والوں کی جگہ نئے ملازمین کی تعیناتی عمل میں لانے کے لئے طوالت کاسلسلہ ہنوز جاری
سرینگر///جموں وکشمیر کے سرکاری اداروں میں افرادی قوت کے باعث اداروں کاکام کاج بُری طرح سے متاثر ہوتاجارہاہے جس اندازسے ملازمین اپنے عہدوں سے ریٹائرہورہے ہیں اور انکی جگہ کئی ملازمین کی بھرتی کے سلسلے میںسنجیدگی کے ساتھ اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہے اور اس بات کاانکشاف ہواہے کہ تعلیم، صحت، جنگلات ،جل شکتی ،تعمیرت عامہ، بجلی، سماجی بہبوداور دوسرے اہم اداروں میں پندرہ سے پچیس ہزارکے قریب ملازمین پچھلے کئی برسوں سے ریٹائرہوگئے ہیں اور ان کی جگہ ملازمین کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی، جبکہ مجموعی طورپرسرکاری اداروں میں40 ہزارکے قریب اسامیوں کے خالی ہونے کی باربار ذکرکی جاتی ہے اور سرکار کی جانب سے اس بات کاباربار دعویٰ کیاجارہاہے کہ فاسٹ ٹریک بنیادوں پربھرتی عمل کو یقینی بنایاجائیگا تاکہ افرادی قوت کی کمی کوپوراکیاجاسکے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق سرکاری اداروں میں افرادی قوت کی کمی بار بار منظرعام پرآ رہی ہے اوربتایاجارہاہے کہ کئی اداروں میں اس کمی سے کام کاج بھی متاثرہورہاہے ۔پچھلے دس پندرہ برسوں سے ملازمین کی ایک بڑی تعداد اپنے عہدوں سے ریٹائرہوئیں او ران کی جگہ نئے ملازمین کی بھرتی عمل میں لانے کے لئے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات نہیں اٹھائے گئے اور یہی وجہ ہے کہ اہم اداروں جن میںصحت، تعلیم ،سماجی بہبود،تعمیرات عامہ ، جل شکتی پی ڈی ڈی اور دوسرے ادارے بھی شامل ہیں میں کام کاج متاثرہورہاہے اور لوگوں کواس سے مشکلوں کامناکرنا پڑتاہے ۔اس بات کابھی انکشاف ہو اہے کہ جموںو کشمیرکے سرکاری اداروں میں تیس سے پنتیس ہزار اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں اور ہر سال سرکار کی جانب سے اس بات کا یقین دلایاجاتاہے کہ خالی پڑی اسامیوں کوپرُکرنے کے لئے فاسٹ ٹریک بنیادوں پراقدامات اٹھائے جائے گے تاہم پچھلے کئی برسوںسے اس سلسلے میں کسی بھی طرح کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے ۔جموں وکشمیر کے ایل جی منوج سنہا چیف سیکریٹری ڈاکٹر ارون کمارمہتا نے سال2021اور 2022.23میں بھی کئی موقعوں پر اس بات کااعلان کیاکہ کہ سرکاری اداروں میں فاسٹ ٹریک بنیادوں پرملازمین کوبھرتی کیاجائیگا تاہم ابھی تک سرکار کی جانب سے خالی پڑی اسامیوں کی جولسٹ سروس سلیکشن بورڈ کوفراہم کی گئی ہے اس سلسلے میں نوٹفکیشن انٹرویو نہیں لئے گئے ہیں۔ جموںو کشمیر سرکار نے 2023کے آخر تک اس بات کایقین دلایاتھاکہ سرکاری اداروں میںجتنی بھی خالی پڑی اسامیوں ہوگی انہیں جنگی بنیادوں پرپُرکیاجائیگا تاہم ابھی تک سرکار نے اس سلسلے میں ابھی تک اقدامات نہیں اٹھائے ہیں جس پربے روز گار طلبہ نے بھی اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کی اُمید تھی کہ سرکار کی جانب سے سرکاری اداروں میں خالی پڑی اسامیوں کوپرُکرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات اٹھائے جائینگے لیکن ابھی تک سرکار نے اس سلسلے میں کسی بھی طرح کی کارروائی عمل میں نہیں لائی ۔ تعلیم یافتہ بے روزگاروں کامطالبہ ہے کہ سرکار اداروں میں خالی پڑی اسامیوں کوپرُکرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائے اور اس بات کی جانکاری فراہم کی جائے کہ اداروں میں کتنی اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں اورسرکار کی جانب سے انہیں کب تک پرُکرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔










