A man fell from a tree in Handwara and died

اخروٹ اُتارنے کے دوران درختوں سے گرنے کے خطرناک حادثات

بجبہاڑہ کے کنلون گائوںمیں تازہ حادثہ،ایک55سالہ شخص گر کر بنا لقمہ اجل

بجبہاڑہ//گزشتہ برس کی طرح امسال بھی اخروٹ اُتارنے کے دوران متعددافراد درختوں سے گرکر لقمہ اجل بن گئے ۔سال2021میں تقریباً10سے زیادہ افراد اس طرح کے حادثات میں ازجان ہوگئے تھے جبکہ امسال رواں ماہ نصف درجن سے زیادہ افراد اخروٹ کے درختوں سے گرکرفوت ہوئے ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے بجبہاڑہ علاقے میں منگل کے روز ایک شخص اخروٹ کے درخت سے گر کر لقمہ اجل بن گیا۔ذرائع نے بتایا کہ علاقہ بجبہاڑہ کے کنلون گائوں میں منگل کے روز ایک شخص اخروٹ کے درخت سے اخروٹ چھاننے یااُتارنے کے دوران پائوں پھسل جانے کی وجہ سے کافی اونچائی سے گر کر شدید زخمی ہوگیا۔مقامی لوگوںنے بتایاکہ اخروٹ کے درخت سے گرنے والے مقامی رہائشی گلزار احمد مغلو کوزخمی حالت میں علاج و معالجے کیلئے فوری طور نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گیا۔دریں اثنا پولیس نے اس ضمن میں ایک کیس درج کرکے قانونی کارروائیاں شروع کی ہیں۔یاد رہے ماہ اگست اوررواں ماہ کشمیرمیں اخروٹ کے درختوں سے متعددافراد گرکر ازجان اورشدیدزخمی ہوگئے ،ماہرین کہتے ہیں کہ اخروٹ اُتارنے یاچھاننے کے دوران چونکہ متعلقہ افراد اپنا توازن قائم نہیں رکھ پاتے ہیں ،اوراخروٹ کی ٹہنیوں پر پھسلن ہونے کی وجہ سے ایسے افراد ذرا سے جھٹکا لگتے ہی گرجاتے ہیں ،اورایسے زیادہ ترافراد کی موت واقعہ ہوتی ہے ،ماہرین کامشورہ ہے کہ چونکہ ان دنوں کشمیر بھرمیں اخروٹ اُتارے جارہے ہیں تو یہ کام کرنے والے مزدوروں کوکافی احتیاط برتنی چاہئے ۔انہوںنے کہاکہ اخروٹ اُتارنے کیلئے بڑی یالمبی سیڑھیوںکا استعمال کیاجاسکتا ہے یادوسری قسم کی احتیاط برتی جاسکتی ہے ۔اخروٹ اُتارنے میں ماہر ایک شخص نے بتایاکہ یہ جان کوہتھیلی پرلیکر کام کرنے جیساہوتاہے ،کیونکہ اخروٹ کے درختوں پر کافی زیادہ پھسلن ہوتی ہے اورایسے میں ایک شخص کیلئے اپنے جسم کاتوازن قائم رکھنا بڑا مشکل ہوتاہے ۔انہوںنے ساتھ ہی کہا کہ اخروٹ اُتارنے کے دوران درختوں پر موجود افراد کونیچے بیٹھے لوگ بتاتے رہتے ہیں کہ اُس جانب درخت کی ٹہنی یاشاخ پر ابھی اخروٹ ہیں ،اورایسی ہی ہدایات یاآوازوں کے دوران اوپر موجود شخص اپنا توازن کھوبیٹھتاہے اورزمین ہر گر جاتاہے ۔