hasnain masoodi

آل پارٹئز میٹنگ کے دوران سرکار کو حزب اختلا ف کے ساتھ تعاون فراہم کرنے کی تلقین کی گئی

زیر واور وقفہ سوالات تحریک التواء پیش کرنے اور بحث کرنے کی اجازت ہونی چاہئے /حسنین مسعودی

سرینگر//ملک کی سب سے بڑی پنچایت میں حالات کو موافق بنانے کے لئے سرکار کوموثر اقدامات اٹھانے کامشورہ دیتے ہو ئے نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر کولگام، شوپیاں، پلوامہ ،اننت نا گ کے ممبر پارلیمنٹ نے کہاکہ ہم نے کل جماعتی میٹنگ کے دوران سرکار کویقین دلایاکہ اجلاس کو قوائد وضوابط کے تحت چلانے کے لئے حزب اختلاف اپنارول اداکریگا تاہم حزب اختلاف کی اجازت ہونی چاہئے کہ وزیرواور وقفہ سوالات کٹ موشن تحریک التواء پیش کرنے کی انہیں اجازت ہو ۔پانچ ریاستوں میں ہوئے اسمبلی الیکشن کے بعد اب نتائج سامنے آ نے والے ہے کیاوجہ ہے کہ جموںو کشمیرکے ایک کروڑتیس لاکھ لوگوں کوالیکشن سے محروم رکھاگیاہے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق چارد سمبر سے شروع ہونے والی پارلیمنٹ اجلاس سے پہلے پارلیمنٹ سیکریٹریٹ میں حزب اختلاف اورحزب اقتدار کی میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس میٹنگ کی سربراہی وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے اور چاردسمبر سے شروع ہونے سے پارلیمنٹ اسکوپرُامن اورروایتی انداز سے چلانے کے لئے حزب اقتدار نے حزب اختلاف سے تعاون مانگا ۔راج ناتھ سنگھ نے کل جماعتی میٹنگ کے دوران میٹنگ میں شامل ممبران کویقین دلایا کہ سرکار ان کے ہرسوال کاجواب دینے کے لئے تیار ہے او رکسی بھی معاملے پرکھل کر کھلے ذہن او ردل سے بحث کرنے کے لئے تیار ہے تاہم پارلیمنٹ کے اجلاس کووقار اورقوائدوضوابط کے تحت چلانے کے لئے حزب اختلاف اپناتعاون فراہم کریں۔وزیردفاع نے اس اجلاس کے دوران کہاکہ ملک میں مسائل کی کوئی کمی نہیں اور حزب اختلاف کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرکار کی نوٹس میں لائے تاکہ ان مسائل کاحکومت جواب دے او رسرکارکی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حزب اختلا ف کے سوالوں کابھرپورجواب دے تاہم حزب اختلاف کوسولات اٹھانے کے دوران یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ا سے ملک میں کسی بھی طرح کی آنچ نہیں آنی چاہئے ۔کل جماعتی میٹنگ کے بعد این سی کے سینئرلیڈر ممبرپارلیمنٹ ریٹائیرد جسٹس حسنین مسعودی نے زررائع ابلاغ کے ساتھ گفتگو کے دوران کہاکہ ہم نے وزیردفاع سے کہاکہ ملک کی سب سے بڑی پنچایت لوگ سبھامیں حزب اختلاف کو اپنے مسائل اُبھارنے اور کسی بھی مسئلے پر بحث کرنے کی اجازت ہونی چاہئے ا ورسرکار اس سلسلے اپناتعاون فراہم کرناچاہئے اگرسرکار ہی مسائل پربحث کرنے سے کترائی گی توپھراس بڑی پنچایت کااجلاس بلانابے معنی ہے۔ انہوں نے کہا ہم نے یہ بات واضح کردی کی وقفہ سوالات زیروآورتحریک التواء پیش کرنے کی اجازت ہونی چاہئے ۔انہوںنے کہاکہ حزب اختلاف کوقوائدوضوابط کے تحت پانی ذمہ داریوں کوملک کی سب سے بڑی پنچایت میں نبھانے کی اجازت حکومت کودینی ہوگی ۔اننت ناگ، پلوامہ ،شوپیاںاور کولگام کے ممبر پارلیمنٹ نے کہاکہ کل جماعتی میٹنگ کے دوران وزیردفاع کویہ یقین دلایاگیاکہ ایوان کی کارروائی تب پرُامن طریقے سے جاری رہے گی جب سرکاری ٹریجری پر بیٹھنے والے حزب اختلا ف کے ساتھ بات کریگے اور ان کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات کو اُجاگرکرنے کی انہیں اجازت دی جائے گی ۔انہوں نے کہاکہ انہوںنے وزیردفاع کی نوٹس میں یہ بات لائی کہ پانچ ریاستوں میں اسمبلی الیکشن کے بعد اب نتائج آنے والے ہے تواسکایہ مطلب ہے کہ ریاستوں میں جمہوریت بحا ل ہے لوگوں کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کی اجازت ہے توپھرکیاوجہ ہے کہ جموں کشمیرمیں پچھلے چھ برسوں سے ایک کروڑ تیس لاکھ لوگوں کواپنے نمائندے چننے اور حکومت منتخب کرنے کی اجازت نہیںدی جارہی ہے ۔نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر نے کہاکہ جموں وکشمیر میں بجلی کی عدم دستیابی سے لوگ پریشان ہیں تاجر چھوٹے کارخانہ دار طرح طرح کے مشکلات سے دو چار ہیں یہ مسئلہ آل پارٹئز میٹنگ کے دوران وزیردفاع مرکزی وزیر پرلاد جوشی کی نوٹس میں لایاگیا کہ وجوہات کیاہے کہ لوگوںکوبہترسہولیات فراہم نہیں کی جاتی ہے۔ ممبر پارلیمنٹ نے کہاکہ بھارت ناطرفدار ملکوں کی بیانوں میں سے ایک ہے اور غاز ا پرجس طرح سے اسرائیل فلسطینیوں کو بمباری کانشانہ بنارہاہے ملک کی حکومت کوچاہئے کہ وہ اس سلسلے میں اپنااثررسوخ استعمال کرے اور فلسطینیوں کو ظلم جبر سے بچانے کے لئے اپنا اثررسوخ استعمال کریں ۔