ہمیں غلامی سے بچنا ہے تو اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک بہتر کل کی داغ بیل ڈال سکیں
سرینگر // آج کا ووٹ کسی اُمیدوار یا کسی جماعت کیلئے نہیں بلکہ پوری قوم اور آنے والی نسلوں کیلئے استعمال کرنا ہے کا اعلان کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر بارہمولہ پارلیمانی حلقے سے پارٹی اُمیدوار عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر ہمیں اس غلامی سے بچنا ہے تو ہر کسی کو ذاتی طور پو کوشش کرنی ہوگی ، اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہوگا تاکہ ہم آنے والی نسلوں کیلئے ایک بہتر کل کی داغ بیل ڈال سکیں۔ سی این آئی کے مطابق نیشنل کانفرنس نائب صدر اور بارہمولہ پارلیمانی حلقے سے پارٹی اُمیدوار عمر عبداللہ نے ضلع کپوارہ میں اپنی انتخابی مہم جاری رکھتے ہوئے آج تارتھ پورہ رامحال ہندوارہ میں ایک بھاری ورکرس کنونشن سے خطاب کے دوران عوام کو خبردار کیا کہ 20تاریخ کا ووٹ کسی اُمیدوار یا کسی جماعت کیلئے نہیں بلکہ پوری قوم اور آنے والی نسلوں کیلئے ہے کیونکہ ہمیں اُسی اقتصادی اور سیاسی غلامی کی طرف لے جایا جارہاہے جس سے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے اس قوم کو آزادی دلائی تھی۔ اگر ہمیں اس غلامی سے بچنا ہے تو ہر کسی کو ذاتی طور پو کوشش کرنی ہوگی ، اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہوگا تاکہ ہم آنے والی نسلوں کیلئے ایک بہتر کل کی داغ بیل ڈال سکیں۔ کنونشن کا انعقاد سینئر پارٹی لیڈر و انچارج کانسچونسی چودھری محمد رمضان نے کیا تھا جبکہ اس موقعے پر پارٹی ٹریجرر شمی اوبرائے، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران شریف الدین شارق، قیصر جمشید لون اور دیگر سرکردہ عہدیداران بھی موجود تھے۔عمر عبداللہ نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف یہاں دو اُمیدوار ایسے ہیں جو درپردہ اور عیاں بھاجپا کیساتھ ملے ہوئے ہیں۔ ایک قلم دوات والا ہے، جس نے نہ صرف ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے وقت راجیہ سبھا سے غیر حاضر رہ کر بھاجپا کی مدد کی بلکہ سہ طلاق معاملے کے دن بھی غیر حاضر رہ کر درپردہ طور پر بھاجپا کی مدد کی، سننے میں آتا ہے کہ آج بھی ان لوگوں کو اس بنا کامراعات مل رہے ہیں ۔ عوام کو اس بات کی جانکاری حاصل کرنی چاہئے کہ یہ جو آج کل گھروں میں سمارٹ میٹر لگ رہے ہیں، اس کا ٹھیکہ کس کس ملا ہے، اور اتنے بڑے ٹھیکے کسی کو ایسے ہی نہیں ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسرا اُمیدوار وہ ہے جو مجھے ٹورسٹ کہتا ہے لیکن جب حقائق پرنظر دوڑائی جاتی ہے تو اس حلقہ انتخاب کیلئے مجھ سے زیادہ وہ ٹورسٹ ہے، یہ شخص نہ صرف یہاں کیلئے ٹورسٹ ہے بلکہ اس نے بحیثیت ایم ایل اے اور بحیثیت وزیر کچھ نہیں کیا، میں اس شخص سے پوچھنا چاہتاہوں کہ ’’آپ نے یہاں کی بہتری کیلئے کیا کیا؟ یہاں کون سا نیا سرکاری دفتر یا ادارہ قائم ہوا؟ کون سی تعمیر و ترقی ہوئی؟ کون سا ایسا کام کیا ہوا جس سے یہاں کی آبادی مطمئن ہو؟ آپ تو خود کو وزیر اعظم کا چھوٹا بھائی جتلاتے ہو، آپ کے اس رشتے کا یہاں کے عوام کو کوئی فائدہ کیوں نہیں ملا؟ کیا آپ نے اس رشتے کا استعمال کرکے یہاں نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ رکوائی؟ کیا آپ نے یہاں کے نوجوانوں کو باہری جیلوں میں لے جانے کا سلسلہ رکوانے کیلئے اپنے اس رشتے کا اثر و رسوخ استعمال کیا؟ ہاں آپ نے ایک جگہ ضروری اس رشتے کا استعمال کیا، آپ نے اپنے ایک پرانے ساتھی کو انتقام گیری کے تحت تہاڑ جیل کا قیدی بنوایا اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ جس بی جے پی نے جموں وکشمیر کو تباہی اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں دیا، آپ یہاں اُس کی نمائندگی کررہے ہیں، پھر آپ کہتے ہیں مجھ پر جھوٹا الزام لگایا جارہاہے؟کیا یہ درست نہیں بھاجپا کوٹا میں وزارت لینے کے بعد آپ نے کھلم کھلا کہا کہ آر ایس ایس کو کشمیر میں پناہ لینے کا پورا پورا حق ہے، یہ وہی آر ایس ایس ہے جس نے کبھی ملک کے مسلمانوں کو تسلیم نہیں کیا، یہ وہی آر ایس ایس ہے جو کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو اگر یہاں رہنا ہے تو ہمارے اشاروں پر چلنا ہے، یہ وہی آر ایس ایس جو مسلمانوں کو دوسرے درجے کی شہریت دینے کیلئے بضد ہے، آپ کو گوامیں شاما پرساد مکھرجی کا ایوارڈ کس لئے ملا؟میں نے بھی اٹل بہاری واجپائی کیساتھ دو سال کام کیا، مجھے تو کوئی ایوارڈ نہیں ملا،آپ کو کس خاطے میں ملا، کہیں نہ کہیں آپ کے تار بہت مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔ 2018میں جب نیشنل کانفرنس نے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے پی ڈی پی کو حکومت بنانے کیلئے حمایت دینے کا اعلان کیا اور الطاف بخاری کو وزیرا علیٰ بنانے کی کوشش کی گئی ، اُس وقت آپ کو وزیر اعلیٰ بننے کیلئے کیسے بھاجپا کی حمایت کا تحریری خط ملا؟ بھاجپا والے ایسے ہی کسی غیر کو تو وزیراعلیٰ نہیں بنائیں گے، حد تویہ ہے کہ آج بھی بھاجپا والے آپ کی مدد میں آگے آگے ہیں اور آپ کویہاں سے حمایت دینے کیلئے جوڑ توڑ میں لگے ہوئے ہیں ، اس کے باوجود بھی آپ کہتے ہیں کہ مجھ پر بھاجپا کے ساتھ رشتوں کا جھوٹا الزام لگایا جارہاہے۔‘‘










