لندن/یو این آئی// برطانیہ اور فرانس امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز کو بحری بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کیلئے ایک وسیع بین الاقوامی مشن کی قیادت کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن اور پیرس اس مشن کے بنیادی منصوبوں کو حتمی شکل دے چکے ہیں۔ خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق اس آپریشن کے امریکہ اور ایران کے درمیان تجارتی جہاز رانی کی بحالی سے متعلق کسی مفاہمت کے چند روز بعد شروع ہونے کا امکان ہے ۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے ، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی برآمدات کا بڑا حصہ گزرتا ہے ۔ حالیہ کشیدگی کے باعث اس علاقے میں بحری نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی ہے ۔ذرائع کے مطابق 15 ممالک پر مشتمل ایک اتحاد اس مشن میں شامل ہوگا اور متعدد ممالک پہلے ہی افرادی قوت اور سازوسامان فراہم کرنے کا عہد کر چکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجی منصوبہ ساز ان بارودی سرنگوں کو ہٹانے کیلئے اعلیٰ سطح کی ہم آہنگی کر رہے ہیں جو مبینہ طور پر پاسداران انقلاب کی جانب سے آبنائے کے بعض حصوں میں بچھائی گئی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ لاجسٹک تیاریاں تقریباً مکمل ہیں، تاہم خصوصی معاون بحری جہازوں سمیت کچھ اضافی وسائل کی ضرورت اب بھی موجود ہے ۔ رپورٹ کے مطابق دستوں کی تعیناتی اس وقت تک شروع نہیں ہوگی جب تک امریکہ اور ایران کے درمیان ایسا معاہدہ طے نہیں پا جاتا جو تجارتی جہاز رانی کی مکمل بحالی اور آپریشنز کیلئے محفوظ ماحول کی ضمانت فراہم کرے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکی افواج آبنائے میں موجود بیشتر بحری بارودی سرنگیں ہٹانے میں کامیاب ہو چکی ہیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ ایران نے آبنائے کے وسیع علاقوں میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث بات چیت پیچیدگی کا شکار ہے ۔ رپورٹ کے مطابق یہ یورپی اقدام خلیج میں سلامتی اور عالمی توانائی کی سپلائی کو مستحکم بنانے کیلئے برطانیہ اور فرانس کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتا ہے ۔ اس سلسلے میں رائل نیوی نے جبرالٹر سے سپورٹ جہاز ’’آر ایف اے لیمے بے ‘‘ روانہ کیا ہے ، جو بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے اور انہیں ناکارہ بنانے والے جدید اور بغیر پائلٹ نظاموں سے لیس ہے ۔ ماہرین کے مطابق اس مشن کی کامیابی عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام اور دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک کے ذریعے تیل کی ترسیل کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔










