’آئی ایف ایف جے کے ‘کادوسرادِن: پینل مباحثے ، ماسٹر کلاسز اور سینما پر گفتگو

’آئی ایف ایف جے کے ‘کادوسرادِن: پینل مباحثے ، ماسٹر کلاسز اور سینما پر گفتگو

فلم سازوں اور صنعتی ماہرین نے ایس کے آئی سی سی میں کیوریشن ، اَدا کاری ، سینما ٹوگرافی ، اینیمیشن اور جموںوکشمیر کے سینمائی مستقبل پر تبادلۂ خیال کیا

سری نگر//جموں و کشمیر کے پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹول( آئی ایف ایف جے کے) کے دوسرے دِن ایس کے آئی سی سی سری نگر میں نامورفلم سازوں، سنیماٹوگرافروں، فلمی صنعت کے پیشہ ور اَفراد اور حکومتی نمائندوں نے شرکت کی جہاں سنیما کے مختلف پہلوؤں پر پُرجوش پینل مباحثے، ماسٹر کلاسز اور کھلے عام گفتگو کا اِنعقاد کیا گیا۔اِن سیشنوں سے فیسٹول کے مکالمے اور علمی تبادلے کے پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہواجس سے’ آئی ایف ایف جے کے‘ کے روایتی فلم سکریننگ پلیٹ فارم سے آگے بڑھ کر جموں و کشمیر میں فن، دستکاری، کاروبار اور سنیما کے مستقبل پر بامعنی گفتگوکے لئے ایک متحرک فورم میں تبدیل ہونے کے ویژن کو تقویت ملی۔پروگرام کا آغاز ’’ دی ٹرابل وِد فیر ی ٹیل اینڈنگز‘‘ کے عنوان سے ایک ماسٹر کلاس سے ہوا جس میں ہدایت کاری اور سکرین پلے رائٹنگ پر توجہ مرکوز کی گئی۔ نشست میں رومانوی مزاحیہ فلموں کے تناظر میں کردار نگاری، مزاحیہ ردھم، ڈرامائی کشمکش اور صنفی روایات کا جائزہ لیا گیا۔ اس سیشن کا آغاز فیسٹول ڈائریکٹر کے اِبتدائی کلمات سے ہوا جس کے بعد معروف بھارتی فلم ڈائریکٹر اور سکرین رائٹر سری رام راگھون نے اظہارِ خیال کیا۔اِس کے بعدکے ’دی کنسٹرکٹنگ ویژول سب ٹیکسٹ‘ عنوان سے سنیماٹوگرافی پر ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ فریمنگ، روشنی، جگہ اور حرکت کس طرح مکالمے سے ماورا جذباتی تناؤ اور بیانیہ معنی کو تشکیل دیتے ہیں۔ سیشن کی نظامت کے فرائض رفیع محمود نے انجام دئیے جبکہ بھارتی سنیماٹوگرافر اور فلم ڈائریکٹر انیل مہتا مقرر تھے۔ایک اور پینل ڈسکشن ’ریسریکٹنگ ہیرٹیج : اینمیشن، اے آئی اور جموں و کشمیر بصری شناخت‘‘میں اس بات پر غور کیا گیا کہ جموں و کشمیر کے روایتی فنون کو اینمے یشن، آرٹیفیشل اِنٹلی جنس( اے آئی) اور کمپیوٹر جنریٹیڈ امیجری (سی جی آئی) کے ساتھ کس طرح مربوط کیا جا سکتا ہے تاکہ عصری بصری شناخت تشکیل اور تخلیقی اظہار کی نئی آوازوں کو فروغ فروغ دیا جاسکے۔ اس سیشن کی نظامت کے فرائض دھوانی دیسائی نے اَنجام دیں جبکہ سنت پی سی اجول نیر گوڈ کر، ہیتال سولیا، جتن مسند، بھارت لکشمی پتی، جیوِدھا شرما اور کانیکا گوتم نے بطور مقرر شرکت کی۔اس کے بعد ’’ اَن لاکنگ جموںاینڈ کشمیر :دی نیکسٹ بِگ سنیمٹِیک ہب‘‘ کے عنوان سے صنعت کی ترقی پر ایک پینل منعقد ہوا جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ جموں و کشمیر کی فلم پالیسی، مراعات، سنگل وِنڈو کلیئرنس اور مقامی شراکت داری ایک دیرپا فلمی ماحولیاتی نظام کی تشکیل میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ سیشن کی نظامت کے فرائض ماینک شیکھر نے اَنجام دِیں۔
پینل ڈِسکشن ’دی گلوبل کینوس ـ: ہو گٹس ٹو بی سین‘ کے عنوان سے ہونے والے پینل مباحثے میں فلم فیسٹول کی سلیکشن سے وابستہ ماہرین نے شرکت کی۔ اس سیشن میں عصرِ حاضر میں فیسٹول کیوریٹ کرنے کے طریقۂ کار، نئی فلموں کی دریافت، رسائی اور آزاد سنیما کے بدلتے ہوئے ماحولیاتی نظام کا جائزہ لیا گیا۔ سیشن کی نظامت کے فرائض سوراو کانتی دتہ نے انجام دیں جبکہ سی ایس وینکٹیشورَن، سِلا دتیہ سین، نرمل دھر اور ریما بورہ نے بطور تھے۔ پروگرام میں’ فیسز آف دِی ویلی:دی بیوٹیفل کرافٹ آف ایکٹینگ‘ کے عنوان سے اداکاری پر ایک سیشن بھی پیش کیا گیا جس میں اس میں فلم کے لئے اداکار کی تیاری، پرفارمنس، باہمی تعاون اور کیمرے کے سامنے یادگار کردار تخلیق کرنے کے تقاضوں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ سیشن کی نظامت کے فرائض مندر بام نے انجام دیں جس میں سلکھیاناباروا، راہل بھٹ اور اشوک وشواناتھن مقررین تھے۔مباحثوں میں فلم کے شائقین، طلباء اور فلم سازوں کی فعال شرکت بھی دیکھی گئی۔شرکأ نے مقررین سے سوالات کئے اور اَپنے خیالات کا اِظہار کیا۔استفساری نشستوں نے ناظرین کو فلم اِنڈسٹری کی سرکردہ آوازوں کے ساتھ براہِ راست مشغول ہونے، فلم سازی کے تخلیقی اور تکنیکی پہلوؤں کے بارے میں بصیرت حاصل کرنے اور سینما کے بدلتے ہوئے منظر نامے کے بارے میں اپنی سمجھ کو گہرا کرنے کا موقع فراہم کیا۔