قومی تحقیقاتی ایجنسی کی چھاپے مار کارروائیاں جاری

NIAکے سابق افسرجاسوسی کرنے پر قومی تحقیقاتی ایجنسی کے شک کے دائرے میں

کشمیر میں معاملات کی تحقیقات کی حساس معلوماتISIکوفراہم کرنے کا الزام:ترجمان

سرینگر/ /کشمیر میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA)کیلئے متعدد معاملات کی تحقیقات کرنے والے ڈیپوٹیشن پر بھیجے گئے سینئر پولیس افسر پر مبینہ طور پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی ISIکو اطلاعات فراہم کرنے پر NIAنے جانچ شروع کی ہے۔ کے این ایس مانیٹرنگ کے مطابق پولیس کے سینئر افسر اروند نیگی کو کشمیر میں قومی تحقیقاتی ایجنسی کیلئے کشمیر میں بہت سارے معاملات کی تحقیقات کرنے کیلئے ڈیپوٹیشن پر بھیجا گیا تھا ، نے انسانی حقوق کے کارکن خُرم پرویز کو حساس معلومات فراہم کی ہے۔ نیوز18نے ایک عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حساس معاملات کی تفصیلات پاکستان کی خفیہ ایجنسی ISIکے ساتھ بانٹنے کی خفیہ اطلاعات ملنے کے بعدمعاملہ کی تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ اروند نیگی پر الزام ہے کہ انہوںنے حساس کیسوںکی تفصیلات ISIکو فراہم کی ہے۔ NIAافسر کے بطور اروند نیگی نے کشمیر میںگزشتہ برس فنڈنگ اور پرویز خرم کا NGOکے ساتھ رابطہ کرنے جیسے معاملات کی تحقیقات کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کے علاوہ بارہمولہ کے منیر چودھری کو بھی اس معاملہ میں گرفتار کیا گیا ہے۔ منیر چودھری آر پار تجارت سے وابستہ ہے۔ نیوز 18نے NIAکے ترجمان نے کے حوالہ سے کہا کہ ’’میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اس معاملہ کے حقائق کی تصدیق کی جارہی ہے‘‘۔ نیوز 18کے مطابق اروند نیگی لگنے والے الزامات پر پہلے ہی NIAکے سامنے 2بار پیش ہوئے ہیں۔ ایک افسر کاکہنا ہے کہ اروند نیگی پر شبہ ہے کہ انہوںنے رقومات کے عوض حساس معلومات فراہم کی ہیں جبکہ تحقیقاتی ادارے ان کے اثاثوں کی تحقیقات کررہی ہے۔ 22نومبر کوNIAکے سابق افسر اروند نیگی کی رہائش گاہ واقع کنور ہماچل پردیش کے علاوہ خرم پرویز کے دفتر و رہائش گاہ سونہ وار اور امیراکدل میں NIAنے چھاپے مارے تھے۔نیوز 18 نے این آئی اے حکام کے حوالے سے یہ کہا کہ 23 نومبر کو جب اس معاملے میں اروند نیگی کے رول کے بارے میں پوچھا گیا تو این آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے سامنے آنے والے بعض حقائق کی تصدیق کی جا رہی ہے اور تلاشیوں کے دوران، الیکٹرانک آلات کو تحویل میں لے کر فارنسک تجزیہ کے لیے بھیج دیا گیاہے۔