بنگلورو/آئی اے این ایس// بروقت ذہانت دکھاتے ہوئے بی ایم ٹی سی (بنگلورو میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن) کے ایک ڈرائیور نے پیرکی صبح خوفناک حادثے میں75 مسافروں کی جان بچا لی چونکہ چند ہی منٹوں میں بس پوری طرح آگ کی لپیٹ میں آگئی، لیکن سبھی مسافر محفوظ باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق رجسٹریشن نمبر KA 57 F 4568 والی یہ بس، میجسٹک سے کڈوگوڈی کی طرف جا رہی تھی۔ جیسے ہی بس ہال انٹرنس کے قریب پہنچی، انجن سے دھواں اور آگ کے شعلے اٹھنے لگے۔ ڈرائیور نے فوری طور پر مسافروں اور کنڈکٹرکو آگاہ کیا اور سب کو بس سے باہر نکلنے کی ہدایت دی۔ پوری طرح بھری ہوئی بس سے مسافروں کو بحفاظت اتار لیا گیا۔ کچھ ہی دیر میں فائر فورس اور ایمرجنسی سروسز کے اہلکار موقع پر پہنچے اور آگ بجھا دی، لیکن تب تک بس مکمل طور پر جل چکی تھی۔ یہ واقعہ ہال پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آیا۔ بی ایم ٹی سی نے آگ لگنے کی اصل وجہ جاننے کے لیے ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے بھی بنگلورو میں بسوں میں آگ لگنے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ 14 اگست 2025 کو بانسواڑی کے او ایم بی آر لے آؤٹ میں ایک چھوڑے گئے اسکول بس میں آگ لگنے سے ایک شخص زندہ جل گیا تھا۔ 15 نومبر 2013 کو کرناٹک کے ضلع ہاویری میں ایک پرائیویٹ لکشری بس فلائی اوورکی ریلنگ سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ گئی تھی، جس میں سات افراد ہلاک اور 25 سے زائد شدید زخمی ہوئے تھے۔ 2 دسمبر 2014 کو بنگلورو کے کے آر پورم علاقے میں ایک خانگی بس میں آگ لگنے سے کم ازکم تین افراد زخمی ہوئے تھے۔










