dr younis

محمد یونس کی مشترکہ بنگالی وراثت پر حملہ ان کے اپنے ملک سے غداری کے مترادف

ڈھاکہ/ ایم این این// نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کے حالیہ بیانات نہ صرف تاریخی طور پر غلط ہیں بلکہ بنگلہ دیش کی شناخت، ثقافت اور آزادی کی جدوجہد کے بھی خلاف ہیں۔یونس نے دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش میں ہندو اور مسلمان ایک مشترکہ بنگالی ثقافت کے علمبردار تھے، اور پاکستان کے خلاف علیحدگی کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ ثقافت تھی۔ ان کے مطابق، بنگلہ دیشی عوام نے صرف ثقافتی خودمختاری کے لیے آواز اٹھائی تھی۔یہ دعویٰ بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کی حقیقت کو مسخ کرتا ہے۔ 1971 کی جنگ ایک مکمل قومی بیداری کا اظہار تھی، جس میں زبان، ثقافت، اور پاکستانی ریاست کے مظالم کے خلاف اجتماعی جدوجہد شامل تھی۔ لاکھوں بنگالی، جن میں اکثریت مسلمان تھے، پاکستان کی فوج کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ اس مزاحمت کی بنیاد قومیت، انصاف، اور خودمختاری پر تھی، نہ کہ صرف ثقافت پر۔یونس کا مؤقف اُن عناصر کی سوچ سے میل کھاتا ہے جو آج بھی پاکستان کے نظریے کو درست ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں اور 1971 کی قربانیوں کو فراموش کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بیانات نہ صرف بنگلہ دیشی عوام کی تاریخی جدوجہد کو کم تر دکھاتے ہیں بلکہ بھارت کے اس اہم کردار کو بھی نظر انداز کرتے ہیں جو اس نے جنگ کے دوران ادا کیا۔جب بنگلہ دیش آج مذہبی انتہاپسندی کے خلاف نبرد آزما ہے اور اپنی سیکولر شناخت کو قائم رکھنے کی جدوجہد کر رہا ہے، تب ایسے بیانات داخلی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔محمد یونس جیسے عالمی شخصیات کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کی تاریخ کا احترام کریں اور عالمی سطح پر اپنے بیانات کے اثرات کو سمجھیں۔ بنگلہ دیش کی شناخت ایک تاریخی جدوجہد اور قربانیوں پر مبنی ہے، جسے کسی بھی مصلحت یا بیانیے کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔