سند طاس آبی معاہدے سے متعلق پاکستان دنیا کو گمراہ کررہا ہے ۔ بھارت

سند طاس آبی معاہدے سے متعلق پاکستان دنیا کو گمراہ کررہا ہے ۔ بھارت

پاکستان کے درپردہ جنگ میں ہندوستان میں 20ہزار سے زائد افراد مارے گئے ۔ سفیر پارواتھینی ہریش

سرینگر// اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے، سفیر پارواتھینی ہریش نے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں میں دہشت گردانہ حملوں میں 20,000 سے زیادہ ہندوستانی مارے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اس پورے عرصے میں “غیرمعمولی تحمل اور بڑائی” کا مظاہرہ کیا ہے۔بھارت نے ہمیشہ ایک بالائی دریا کی ریاست کے طور پر ذمہ دارانہ انداز میں کام کیا ہے۔وائس آ ف انڈیا کے مطابق ہندوستان نے ہفتہ کے روز سندھ آبی معاہدے پر اس کی “غلط معلومات” پر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا، جسے گزشتہ ماہ جموں اور کشمیر کے پہلگام میں ایک مہلک دہشت گردانہ حملے کے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے، سفیر پارواتھینی ہریش نے کہا کہ 65 سال پرانا معاہدہ اس وقت تک التوا میں رہے گا جب تک پاکستان، “دہشت گردی کا عالمی مرکز”، سرحد پار دہشت گردی کی حمایت ختم نہیں کرتا۔ان کا ردعمل اس وقت سامنے ا?یا جب پاکستانی نمائندے نے اقوام متحدہ میں معاہدے کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ “پانی زندگی ہے جنگ کا ہتھیار نہیں”۔بھارت نے پہلگام حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے ایک دن بعد 23 اپریل کو 1960 میں طے پانے والے سندھ آبی معاہدے کو معطل کر دیا تھا۔ نئی دہلی کی کارروائی اس خوفناک دہشت گردانہ حملے سے “سرحد پار روابط” کے پائے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔بھارت نے ہمیشہ ایک بالائی دریا کی ریاست کے طور پر ذمہ دارانہ انداز میں کام کیا ہے۔ انہوں نے چار نکات کو اجاگر کیا جنہوں نے پاکستان کو “بے نقاب” کیا۔”سب سے پہلے، بھارت نے 65 سال قبل نیک نیتی کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کی تمہید میں بتایا گیا ہے کہ یہ جذبہ اور دوستی کے ساتھ کیسے طے پایا۔ ساڑھے چھ دہائیوں کے دوران، پاکستان نے بھارت پر تین جنگیں اور ہزاروں دہشت گرد حملے کر کے اس معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کی ہے۔مسٹر ہریش نے کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں میں دہشت گردانہ حملوں میں 20,000 سے زیادہ ہندوستانی مارے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اس پورے عرصے میں “غیرمعمولی تحمل اور بڑائی” کا مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے کہا، “ہندوستان میں پاکستان کی ریاستی سرپرستی میں سرحد پار دہشت گردی شہریوں کی زندگیوں، مذہبی ہم آہنگی اور اقتصادی خوشحالی کو یرغمال بنانے کی کوشش کرتی ہے۔واضح رہے کہ پہلگام حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے مابین خارجی اور مقامی سطح پر کشیدگی بڑھ گئی ہے جبکہ دونوں ممالک کے مابین جنگی صورتحال بھی پیدا ہوئی ۔