hacker

ایران کے نیوکلیائی ٹھکانوں پر سائبر حملہ، کئی ضروری خدمات ٹھپ، کیا یہ کارستانی اسرائیل کی ہے؟

ایران اور اسرائیل کے درمیان اس وقت تعلقات اچھے نہیں چل رہے ہیں۔ ایران نے جب سے اسرائیل پر درجنوں کی تعداد میں میزائل داغے ہیں، تب سے پوری دنیا کسی بڑی انہونی سے ڈری ہوئی ہے۔ اسرائیل نے ایران سے ’سنگین نتیجہ‘ بھگتنے کے لیے تیار رہنے کو پہلے ہی کہا ہوا ہے۔ اس درمیان ایران کے نیوکلیائی ٹھکانوں پر سائبر حملہ کی خبر سامنے آ رہی ہے۔ یہ خبر پھیلتے ہی یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا یہ اسرائیل کی کارستانی ہے!ہفتہ کے روز ایران کے نیوکلیائی پلانٹس اور حکومت کی تقریباً سبھی شاخوں پر سائبر حملہ ہوا ہے۔ ایران انٹرنیشنل نے ایران کے سائبراسپیس کے سپریم کونسل کے سابق سکریٹری کا حوالہ دیتے ہوئے یہ رپورٹ دی ہے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ مبینہ سائبر حملوں کے پیچھے اسرائیل ہے یا نہیں، لیکن تل ابیب نے تہران کے یکم اکتوبر کے میزائل حملہ کے جواب میں ایران کے نیوکلیائی اور تیل پلانٹس پر حملہ کرنے کی تنبیہ دی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ سائبر حملہ کی خبر سے پوری دنیا میں گہما گہمی شروع ہو گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سپریم کونسل آف سائبراسپیس کے سابق سکریٹری فیروزآبادی نے بتایا ہے کہ ایران کی حکومت کی تقریباً ہر شاخیں مقننہ، عدلیہ اور ایگزیکٹیو سبھی سائبر حملوں سے متاثر ہوئی ہیں۔ اس سائبر حملہ کے بعد ایران کی کئی اہم جانکاریاں بھی چوری ہوئی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی بلدیاتی خدمات، ایندھن تقسیم، بندرگاہوں اور ٹرانسپورٹیشن جیسے اہم نیٹورک کے ساتھ ساتھ وہاں کی نیوکلیائی سہولیات کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔ اس سے حکومت کے کام متاثر ہوئے اور کئی خدمات بھی ٹھپ پڑ گئے ہیں۔