لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ کو گزشتہ دو ہفتوں میں اپنی تاریخ کے سب سے زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس عرصے میں تنظیم کے قائد حسن نصر اللہ سمیت کئی اہم کمانڈرز کی ہلاکت اور اب اسے اسرائیلی فورسز سے زمینی لڑائی کا سامنا بھی ہے۔
دو ہفتے قبل حزب اللہ کے کارکنوں کے زیرِ استعمال ہزاروں کمیونی کیشن ڈیوائسز اچانک پھٹنے کے واقعات میں کم از کم 39 افراد ہلاک اور 3000 زخمی ہوگئے تھے۔ حزب اللہ نے ان دھماکوں کے لیے اسرائیل کو ذمے دار قرار دیا تھا۔
گزشتہ برس اکتوبر میں حزب اللہ کی اتحادی حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد لبنانی عسکری تنظیم نے بھی اسرائیل کی شمالی سرحد پر جھڑپیں شروع کر دی تھیں۔ اس کشیدگی میں اب تک حزب اللہ کے لگ بھگ 500 جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔
گزشتہ ہفتے سے جاری اسرائیل کی لبنان پر بمباری میں حزب اللہ کے 100 سے زائد جنگجو مارے گئے ہیں جن میں حزب اللہ کے اعلیٰ عہدے دار اور کمانڈرز بھی شامل ہیں۔ حزب اللہ وقفے وقفے سے وسطی اسرائیل پر راکٹ فائر کر رہی ہے۔ تنظیم کے ترجمان محمد عفیف نے منگل کو خبردار کیا تھا کہ اسرائیل پر راکٹ حملے صرف آغاز ہیں اور وہ لبنان میں داخل ہونے پر اسرائیلی فوج سے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
حزب اللہ کی پشت پناہی کرنے والے ایران نے منگل کو اسرائیل پر درجنوں بیلسٹک میزائل برسائے اور اسے حسن نصراللہ کی ہلاکت کا بدلہ قرار دیا۔
ایران نے یہ میزائل حملے جنوبی لبنان میں اسرائیل کی زمینی کارروائی شروع کرنے کے ایک روز بعد کیے۔
لبنان میں اسرائیل کی کارروائیوں اور اپنی قیادت کی ہلاکتوں کے بعد حزب اللہ کو کتنا نقصان اٹھانا پڑا ہے؟ یہ سمجھنے کے لیے پہلے اس کے جنگجوؤں کے تنظیمی ڈھانچے اور ذمے داریوں کی تقسیم سمجھنا ضروری ہے۔
حزب اللہ کے جنگجو کہاں کہاں ہیں؟
حزب اللہ کے ہزاروں جنگجو علاقائی تنازعات میں لڑ چکے ہیں۔ خاص طور پر حزب اللہ نے گزشتہ 13 سال سے جاری شام کی خانہ جنگی میں صدر بشار الاسد کے حق میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا تھا۔
حزب اللہ کے پانچ مرکزی یونٹس ہیں جن میں سے ہر ایک میں ہزاروں جنگجو شامل ہیں۔ ان میں سے ‘’صر‘ اور ’عزیز‘ نامی یونٹ اسرائیل سے ملحق سرحد پر تعینات ہیں۔
نصر یونٹ جنوب مشرق میں اسرائیل کے زیرِ قبضہ گولان کی پہاڑیوں تک کے علاقے کو کنٹرول کرتا ہے جب کہ ’عزیز‘ یونٹ جنوب مغرب میں بحیرۂ روم کے ساحل تک کے علاقے پر تعینات ہے۔
رواں برس کے آغاز میں اسرائیل کے فضائی حملوں میں نصر اور عزیز کے کمانڈرز ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد نئے کمانڈرز تعینات کیے گئے۔
لبنان کے جنوب میں حزب اللہ کا ’صیدا‘ یونٹ اور دریائے لیطائی کے درمیانی علاقے کی نگرانی ‘بدر’ یونٹ کرتا ہے اور یہ علاقہ 1980 کی دہائی سے حزب اللہ کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔
حزب اللہ کا’حیدر‘ یونٹ مشرقی بقاع وادی میں جب کہ ضحیہ یونٹ بیروت کے گنجان آباد مضافات میں تعینات ہے جہاں حزب اللہ کا ہیڈ کوارٹر تھا اور اسی علاقے میں اسرائیلی حملے سے جمعے کو حسن نصر اللہ کی ہلاکت ہوئی تھی۔
حزب اللہ کی ایلیٹ فورس کا نام ’رضوان‘ ہے جس میں ہزاروں جنگجو ہیں۔ اس یونٹ کا کچھ حصہ اسرائیلی بارڈر کے ساتھ تعینات ہے۔
پیر کو حزب اللہ کے المنار ٹی وی نے رپورٹ کیا تھا کہ حملہ آور ہونے والی فوج اسرائیلی فوج نے اگر زمینی حملے کیے تو اس کے رضوان کے تجربہ کار جنگجوؤں سے مقابلہ کرنا ہوگا۔
اسرائیلی فوج بدھ کو تصدیق کی تھی کہ حزب اللہ سے زمینی لڑائی کے دوران اس کے آٹھ فوجی مارے گئے ہیں اور یہ ہلاکتیں جنوبی لبنان میں دو مختلف واقعات میں ہوئی ہیں۔
حزب اللہ کے کون سے کمانڈر باقی ہیں؟
حالیہ ہفتوں میں حزب اللہ کے بعض انتہائی تجربے کار عسکری کمانڈرز ہلاک ہوگئے ہیں جن میں رضوان فورس کے انچارج ابراہیم عاقل اور تنظیم کے میزائل یونٹ کمانڈ کرنے والے ابراہیم قبیسی سرِ فہرست ہیں۔
حزب اللہ کے ڈرون یونٹ کے کمانڈر محمد سرور اور جنوبی لبنان میں جنگجوؤں کی قیادت کرنے والے علی کرکی بھی اسرائیل کے فضائی حملے میں مارے جاچکے ہیں۔
رواں برس جولائی میں اسرائیل نے ایک حملے میں حزب اللہ کے اعلیٰ ترین ملٹری کمانڈر فواد شکر کو ہلاک کیا تھا۔
منگل کو حزب اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اسرائیل کی انٹیلی جینس ایجنسی موساد کے ہیڈ کوارٹر پر درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے ‘فادی فور’ میزائل فائر کیے ہیں۔
اس کے کچھ گھنٹوں بعد حزب اللہ نے تل ابیب کے مضافات میں بھی یہی میزائل برسانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے علاوہ حزب اللہ نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے کئی اسرائیلی ڈرون یا تو مار گرائے ہیں یا ان کا تعاقب کیا ہے۔ ایسے واقعات گزشتہ ہفتے کے دوران بھی پیش آئے ہیں۔
اسرائیل پر فائر کیے گئے زیادہ تر میزائل یا تو فضا میں ہی تباہ کر دیے جاتے ہیں یا وہ ویران علاقوں میں گرتے ہیں۔ لیکن اسرائیلی حکام خبردار کرتے ہیں کہ ان کی فضائی حدود مکمل طور پر بند نہیں کی جاسکتی اور اس کا فضائی دفاعی نظام جادوئی نہیں ہے۔










