جموں//الیکشن کمیشن آف اِنڈیا (ای سی آئی) کی طرف سے پریس نوٹ نمبر ECI/PN/132/2024، بتاریخ 31 ؍اگست 2024 ء کے ذریعے جاری کردہ رہنما خطوط کے مطابق اور عوامی نمائندگی ایکٹ ، 1951 کی دفعہ 126 اے کی دفعات کے تحت تمام میڈیا آؤٹ لیٹس (پرنٹ ، الیکٹرانک ، یا ڈیجیٹل ) ، پولنگ ایجنسیوں اور اَفراد کو مطلع کیا جاتا ہے کہ جموں و کشمیر میں جاری اِنتخابات سے متعلق ایگزٹ پول کے نتائج کی اشاعت یا نشریات 5 ؍اکتوبر 2024 کو شام 6بجے کے بعد شائع کی جاسکتی ہیں۔یہ پابندی عوامی نمائندگی ایکٹ 1951 کی دفعہ 126 اے کے تحت لازمی ہے۔ اس شق کی خلاف ورزی قانونی کارروائی کا باعث بن سکتی ہے جس میں قانون کے مطابق جرمانے اور قید شامل ہیں۔اس پابندی کا اطلاق اخبارات، ٹیلی ویژن چینلوں، ریڈیو، آن لائن نیوز پورٹلوں، سوشل میڈیا پلیٹ فارموں اور میسجنگ سروسز جیسے واٹس ایپ، ٹیلی گرام، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام وغیرہ سمیت میڈیا کی تمام شکلوں پر ہوتا ہے۔ اس کا اطلاق سیاسی جماعتوں، اُمیدواروں، پولنگ ایجنسیوں اور اِنتخابات سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث افراد پر بھی ہوتا ہے۔چیف الیکٹورل آفس جموںوکشمیر ضلع الیکشن افسران، ریٹرننگ افسران اور قانون عملانے والے اِداروں کے ساتھ مل کر تعمیل کی نگرانی کرے گا۔ کسی بھی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔اِس اَقدام کا مقصد اِنتخابی عمل کی سا لمیت کو برقرار رکھنا اور آزاد انہ اور منصفانہ اِنتخابی ماحول کو یقینی بنانا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ووٹرز اپنے فیصلے قبل از وقت پیشین گوئیوں یا انتخابی نتائج کے تجزیوں سے متاثر نہ ہوں۔تمام متعلقہ جماعتوں بشمول میڈیا ہاؤسز، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور پولنگ ایجنسیوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ ان ہدایات پر عمل کریں اور مقررہ وقت سے پہلے ایگزٹ پول کے نتائج شائع کرنے یا اشتراک کرنے سے گریز کریں۔
کشمیری صوفیانہ موسیقی کو یونیسکو ثقافتی ورثہ قرار دلانے کی وکالت
ڈیجیٹل انڈیا نے دنیا میں بھارت کی نئی شناخت قائم کی// وزیر اعظم نریندر مودی
جموں و کشمیر میں ہر 2میں سے ایک شہری خاتون موٹاپے کا شکار
یاترا سے قبل جموں،سرینگر شاہراہ پر 3.5 کلومیٹر طویل جنوبی ٹنل مکمل
وادی کے اسکولوں میں 6 جولائی سے 14 روزہ گرمائی تعطیلات کا اعلان
سپریم کورٹ کی تشویش کے بعد ہائی کورٹ متحرک
فوجی سربراہ جنرل دھیراج سیٹھ نے “’وجے‘ ویژن کا اعلان کردیا
100 ڈگری کالجوں میں 100 سے بھی کم داخلے، اندراج کا بحران سنگین
سکینہ اِیتو نے کشمیر کے پانچ اسمبلی حلقوں کے ترقیاتی مسائل کا جائزہ لیا
لیفٹیننٹ گورنر نے این ایچ ۔44 پر رامسو کے قریب 810 میٹر طویل وایاڈکٹ اور ڈگڈول سے پنتھیال کو










