ہندوستان مصنوعی ذہانت انقلاب میں صرف حصہ نہیں لے رہا، بلکہ قیادت کر رہا ہے

ملک کی توجہ نئے اور اختراعی شعبوں کو دیکھتے ہوئے موجودہ حل کو مضبوط بنانے پر مرکوز / وزیر اعظم مودی

موسمیاتی تبدیلی صرف مستقبل کا معاملہ نہیں ،اثرات ابھی محسوس کیے جارہے ہیں،کارروائی کی فوری ضرورت

سرینگر // ملک کی توجہ نئے اور اختراعی شعبوں کو دیکھتے ہوئے موجودہ حل کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف مستقبل کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات ابھی محسوس کیے جارہے ہیں۔سی این آئی کے مطابق ویڈیو پیغام کے ذریعہ ‘سبز ہائیڈروجن ’ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ دنیا ایک اہم تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے اس بڑھتے ہوئے احساس پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف مستقبل کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات ابھی محسوس کیے جارہے ہیں۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اس پرکارروائی کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی منتقلی اور پائیداری عالمی پالیسی گفتگو میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ایک صاف ستھرا اور سرسبز سیارہ بنانے کے تئیں قوم کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ ہندوستان سبز توانائی پر پیرس کے وعدوں کو پورا کرنے والے پہلے جی 20 ممالک میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وعدے 2030 کے ہدف سے 9 سال پہلے پورے ہو گئے تھے۔ گزشتہ 10 برسوں میں ہونے والی پیشرفت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی نصب شدہ غیرفوسل ایندھن کی صلاحیت میں تقریباً 300 فیصد اضافہ ہوا ہے اور شمسی توانائی کی صلاحیت 3,000 فیصدسے زیادہ ہو گئی ہے۔ مودی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کامیابیوں پرہم آرام سے بیٹھے نہیں ہیں اور ملک کی توجہ نئے اور اختراعی شعبوں کو دیکھتے ہوئے موجودہ حل کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سبز ہائیڈروجن کی اہمیت سامنے آچکی ہے۔‘نریندر مودی نے کہا’’نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن اختراع، بنیادی ڈھانچہ، صنعت اور سرمایہ کاری کو ترغیب دے رہا ہے‘‘۔ انہوں نے جدید تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری اور ڈومین کے اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی پر روشنی ڈالی۔موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی کے عالمی خدشات کاذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایسے خدشات کے جوابات بھی عالمی ہونے چاہئیں۔ انہوں نے ڈی کاربنائزیشن پر سبز ہائیڈروجن کے اثرات کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کی اہم ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پیداوار میں اضافہ، لاگت کو کم کرنا اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیرباہمی تعاون کے ذریعہ تیزی سے ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تحقیق اور اختراع میں مشترکہ سرمایہ کاری کی ضرورت کا بھی ذکر کیا۔