بھارت نے چین کے ساتھ تجارتی لین دین نہیں روکا ،لیکن کچھ شرائط پر تجارت کی جانی چاہیے / ایس جئے شنکر
سرینگر // بھارت نے چین کے ساتھ تجارتی لین دین نہیں روکا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کن علاقوں میں اور کن شرائط پر تجارت کی جانی چاہیے کی بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ کاروباری اداروں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے خطرات سے قومی سلامتی پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور ہندوستانی حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کاروبار کو سست روی اختیار کرنے اور چیزوں کو غور سے دیکھنے کا کہے۔ سی این آئی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق برلن میں جرمن دفتر خارجہ کی سالانہ سفیر کانفرنس کے ایک حصے کے طور پر اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ بات چیت میں حصہ لیتے ہوئے چین کے ساتھ ہندوستان کے تجارتی تعلقات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ ہم نے چین کے ساتھ تجارت نہیں روکی۔ یہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے، یہ ایک پریمیم صنعت ہے۔ کوئی ایسا نہیں جو یہ کہہ سکے کہ میں چین کے ساتھ کاروبار نہیں کروں گا۔انہوں نے کہا’’ میرے خیال میں مسئلہ یہ ہے کہ آپ کن شعبوں میں تجارت کرتے ہیں، کن شرائط پر تجارت کرتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کے خطرات سے قومی سلامتی پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور ہندوستانی حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کاروبار کو سست روی اختیار کرنے اور چیزوں کو غور سے دیکھنے کا کہے۔ بھارت اور چین کے تعلقات حالیہ برسوں میں کشیدہ رہے ہیں۔خاص طور پر سرحدی تنازعات اور تجارتی مسائل کے حوالے سے، اس تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہندوستان کا تقریباً 400 چینی ایپس پر پابندی لگانے کا فیصلہ تھا۔ یہ اقدام 2020 کے وسط میں شروع ہوا اور اس کے بعد کے سالوں میں جاری رہا۔ یہ بنیادی طور پر قومی سلامتی کے خدشات اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کی وجہ سے ہوا تھا۔










