حکومت ہند بتائیں کہ جماعت اسلامی پر پابندی اب بھی نافذ ہے، یا اس میں نرمی کی گئی / محبوبہ مفتی کا سوال
سرینگر // پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کالعدم جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر سخت حملہ کرتے ہوئے ان سے کہا کہ وہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے والوں کے بارے میں اپنا موقف واضح کریں کہ کیا وہ ان کے امید وار ہے یا ایجنسیوں کے ایجنٹ ہے ۔ سی این آئی کے مطابق شوپیاں میں ایک جلسہ عام کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ جماعت اسلامی والے واضح کریں کہ جو امید وار ان کے نام پر الیکشن لڑ رہے ہیں کیا وہ واقعی میںان کے ہیں یا کسی ایجنسیوں کے ایجنٹ ہے ۔ انہوں نے کہا ’’جماعت پر پابندی ہے۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ میدان میں موجود یہ جماعت جمہوری عمل میں حصہ لے۔ لیکن حکومت کو اس پر سے پابندی اٹھانے دیں۔ جماعت کو آگے آنے والوں کو واضح کرنا چاہئے، اور اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے والے ان کے اپنے نمائندے ہیں، یا ایجنسیوں کے ایجنٹ ہیں۔ ‘‘ انہوں نے جموں و کشمیر میں آئندہ اسمبلی انتخابات میں جماعت کو فعال کردار ادا کرنے کی اجازت دینے پر مرکزی حکومت پر تنقید کی۔انہوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور حکومت کی خاموشی پر سوال اٹھایا کہ جماعت کی طرف سے بعض افراد کو کھلی حمایت دی جا رہی ہے۔پی ڈی پی صدر نے مطالبہ کیا کہ حکومت واضح کرے کہ آیا جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر پابندی اب بھی نافذ ہے، یا اس میں نرمی کی گئی ہے، اگر اس طرح کی پابندی موجود ہے تو سیاسی عمل میں گروپ کی شمولیت کے تضاد کی نشاندہی کریں۔










