جے کے مراز کمراز اکادمی اور کالی داس تھیٹر کے باہمی اشتراک سے

جے کے مراز کمراز اکادمی اور کالی داس تھیٹر کے باہمی اشتراک سے

ٹیگور ہال سرینگر میں ایک ادبی تقریب منعقد ،شبینہ آرا کے شعری مجموعہ’’یاد تنہا کبھی نہیں آتی ‘‘آزین سجاد کی کتاب کی رسمِ رونمائی انجام دی گئی

سرینگر//جے کے مراز کمراز اکادمی اور کالی داس تھیٹر کے اشتراک سے ٹیگور ہال سرینگر میں ایک شاندار ادبی تقریب منعقد ہوئی۔تقریب کی صدارت پرنسپل سیکریٹری ہیلتھ سید عابد رشید ( آئی اے ایس ) نے کی جبکہ معروف قانون دان اور ہردلعزیز مقرر جسٹس بشیر احمد کرمانی بطور مہمان ذی وقار موجود تھے اوراس تقریب میں دانشوروں۔قلمکاروں ،فنکاروں اور شعراء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ کشمیر پریس سروس تفصیلات کے مطابق تقریب میں نوجوان شاعرہ اور ادیب شبینہ آراء کے شعری مجموعہ ’’یاد تنہا کبھی نہیں آتی ‘‘آزین سجاد کی کتاب کی رسمِ رونمائی انجام دی گئی جبکہ اس موقعہ پرنوجواں شاعرہ شبینہ آرا، مشہور آرٹسٹ جاوید اقبال اور نوجوان ادیبہ آزین سجاد کو جی آر سنتوش ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔اس موقعہ پر کشمیر کے معروف گلوکار وحید جیلانی اور مشہور گلوکارہ شازیہ بشیر نے شبینہ آرا کا کلام پڑھ کر سنایا۔اس موقعہ پر سید عابد رشید نے اپنے صدارتی خطبہ میں نوجوان قلمکاروں کو مبارکباد دیتے ہوئے تقریب میں موجود اعلیٰ پایہ کے دانشوروں اورادیبوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ جس طرح سے انہوں نے سماج اپنی شناخت بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے اسی طرح وہ ان نوآموز قلمکاروں ،شعراء اور ادیبوں کو ترغیب دیں کہ وہ بھی سماج میں اپنا نام درج کریں ۔انہوں نے کہا کہ ادیب اور قلمکار سماج کا ایسا سرمایہ ہے جس کا زوال نہیں ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ سماج میں سبھی لوگ ادیب یا فن کار نہیں ہوسکتے ہیں جو ہیں ان کی قدر کرنا سماج کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے اورانہی کے دم سے سماج قائم ہے ۔اس موقعہ پر جسٹس بشیر احمد کرمانی اپنے منفرد انداز میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شبینہ آراء کی شاعری اور ان کی تخلیق کاری پران کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا جبکہ آزین سجاد کو مشورہ دیا کہ وہ اردو اور کشمیری میں اپنے جذبات اور خیالات کو صفحہ قرطاس پر لانے کیلئے طبع آزمائی کریں کیونکہ انگریزی زبان ہماری مجبوری ہے نہ کہ اس زبان کو ہماری ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ کتابوں کی رونمائی کاسلسلہ جاری ہے جو ایک بہترین عمل ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ان کتابوں کے پڑھنے والے کتنے ہیں ۔انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ مطالعہ کا ذوق پیدا کریں اور کتابوں کو خریدنے کی عادت ڈالیں اور وہی ان تخلیق کاروں کی کامیابی اوران کے ساتھ ہمدردی کا سبب بن سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس بکھرے ہوئے سماج کو پٹری پر لانے کیلئے ان تخلیق کاروں کو پڑھنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ شبینہ اپنے کلام میں جس گہرائی اور جن جذبات واحساسات کا اظہار کرتی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہیں ایسے حالات سے گذری ہیں جس سے وہ گہرائی میں پڑی ہے ۔ انہوں نے فنکاروں اورتخلیق کاروں کو اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ہی آجکل زبان وادب کی خدمت ممکن ہے۔اس تقریب کی نظامت عالمی شہرت یافتہ صحافی ریاض مسرور نے کی جبکہ اکادمی کے چیرمین اور ماہر لسانیات پروفیسر مجروح رشید نے تحریک شکرانہ پیش کیا ۔