پی او سی ایس او اور پی او ایس ایچ ایکٹ پر دو روزہ پروگرام اِختتام پذیر

سری نگر//جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈیمی مومن آباد سری نگرمیں ’’ پی او سی ایس او اور پی او ایس ایچ ایکٹ‘‘ کے عنوان سے متعلق دو روزہ پروگرام آج اِختتام پذیر ہوا۔ اس پروگرام کا اِنعقاد جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈیمی برائے جوڈیشل آفیسرز، پی پیز، ایڈیشنل پی پیز، اسسٹنٹ پی پیز، میڈیکل آفیسرز، فورنسک سائنس لیبارٹری کے افسران، محکمہ پولیس کے افسران، جنسی ہراسانی کی تحقیقاتی کمیٹیوں کے ممبران، جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ اور صوبہ کشمیر کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والی جینڈر سینسیٹائزیشن انٹرنل کمیٹیوں کے ممبران نے کیا تھا۔دوسرے دن کے پہلے سیشن کی صدارت جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے جج جسٹس رجنیش اوسوال نے کی جس میں جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ آر اے جان بطورِ مقررتھے۔ جسٹس اوسوال نے پی او سی ایس او ٹرائلز میں چارجز کی تشکیل اور بچوں کے جنسی استحصال کے معاملوں میں متاثرین کے شواہد کی ریکارڈنگ اور اپری سیشن کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔اُنہوں نے پی او سی ایس اویکٹ کی تکنیکی سختی پر تبادلہ خیال کیا جس میں بچوں کی جسمانی اور جذباتی بہبود کو یقینی بنانے کے بنیادی مقصد کو اُجاگر کیا گیا ہے۔جسٹس رجنیش اوسوال نے اس بات پر زور دیا کہ پی او سی ایس او ٹرائلز میں شواہد کی ریکارڈنگ اور اپری سیشن کے لئے مخصوص طریقۂ کار پر عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ بچے کی گواہی کو حساس اور مؤثر طریقے سے سنبھالا جائے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے دوران جمع کئے گئے شواہد کی بنیاد پر الزامات عائد کئے جائیں۔سینئر ایڈوکیٹ آر اے جان نے کہا کہ صرف ایک آدمی میں دوہری جبلت ہوتی ہے ۔ اِنسان کے ساتھ ساتھ جانور بھی جس کی وجہ سے وہ وقت پر وحشی جیسا سلوک کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2012 ء میں ہندوستان میںپی او سی ایس اوایکٹ نافذ کیا گیا تھا اور جو ڈیٹااکٹھا کیا گیا وہ یہ جان کر حیران کن تھا کہ واقعات کی تعداد میں صرف اِضافہ ہوا ہے۔اُنہوں نے اس بات کی عکاسی کی کہ اس قانون سازی کا مقصد ایسی رُکاوٹ پیدا کرنا ہے کہ وحشی اس طرح کے گھناؤنے کاموں کا اِرتکاب کرنے سے باز رہیں۔دوسرے سیشن کی صدارت جنسی ہراسانی تحقیقاتی کمیٹی سری وِنگ کی چیئرپرسن جسٹس موکشاکھجوریہ کاظمی نے کی جس میںسینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے شعبہ قانون کے اسسٹنٹ پروفیسر گلفروز جان بطورِ مقرر تھے۔جسٹس موکشا کاظمی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صنفی مرکزی دھارے میں لانے سے اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پالیسی سازی اور قانون سازی کا کام اعلیٰ معیار کا ہو اور معاشرے کے لئے اس کی زیادہ اہمیت ہو۔صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور عدم مساوات کی بنیادی وجوہات کو دور کرکے صنفی مرکزی دھارے میں لانے سے ہر ایک کے لئے زیادہ منصفانہ اور مساوی معاشرے کی تشکیل میں مدد ملتی ہے۔گلفروز جان نے قانون کے تین مقاصد یعنی جنسی ہراسانی کی روکتھام اور تدارک کے حصول کے لئے انٹرنل کمپلینٹس کمیٹی اور لوکل کمپلینٹس کمیٹی دونوں کے کردار پر روشنی ڈالی تاکہ خواتین آئینی روح کے مطابق آرام دہ ماحول میں وقار کے ساتھ کام کرسکیں۔تمام سیشن اِستفساری تھے جس میںتمام شرکأ نے سرگرمی سے حصہ لیا اور اپنے تجربات کا اِشتراک کیا اور موضوع کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔اُنہوں نے متعدد سوالات بھی اُٹھائے جن کے قابل ریسورس پرسنوں نے تسلی بخش جوابات دیئے۔پروگرام کے اختتام پر ڈائریکٹر جموں و کشمیر جوڈیشل اکیڈمی یش پال بورنی نے پروگرا کو کامیاب بنانے کے لئے سب کا شکریہ اَدا کیا۔