بڑی تعداد میں نوجوان بینکوں کے قرض دار اور روز گار سے محروم
سرینگر//سیاحت کوفروغ دینے کی آڑ میں بے روز گاری میں مسلسل اضافہ گلمرگ، بنگس ،گریز اور دیگر دور دراز علاقوں میں کھیمے نصب کرنے پرپابندی عائدکرنے سے درجنوں بیروز گار پریشانیوں سے دو چار اور کئی بڑے بزنس مین نے انتظامیہ کی اس کارروائی پرحیرانگی کااظہارکیا۔اے پی آئی نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بنگس، گریز ،کیرن،گلمرگ ،سونہ مرگ اور دوسرے دووردراز علاقوں میں سیاحت کوفروغ دینے اور روز گارکے وسائل کوبروئے کار لانے کے لئے جہاں ہوم سٹیں کاسلسلہ وادی کے طول ارض میں شروع کیاگیاہے وہی ان دور دراز علاقوں میں بیروز گاروں تاجروں اور دوسرے مکتب ہائی فکر سے تعلق رکھنے و الے افرا دنے غیرملکی سیاحوں کوان سیاحتی مقامات پر سیروتفریح کے لئے رہائش کھانے پینے او ردوسرے سہولیات فراہم کرنے کے لئے ٹینٹ نصب کئے تھے جس کے نتیجے میں سیاح او رسیلانی ان ٹینٹوںکااستعمال کرتے تھے تاہم سرکار کوشکایت ملی کہ سیا حتی مقامات پر ماحولیات کوآلودہ بنانے کی کارروائیاں عمل میں لای جارہی ہے اور قوائدو ضوابط کی بھی خلاف ورزی ہورہی ہے جسکے بعد اسرکارنے فیصلہ کیاکہ سیاحتی مقامات پر کھیمے نہ لگائے جائے اور اس طرح کی کارروائیوںپرپابندی عائدکردی ۔سرکار کے ا س فیصلے سے جن تعلیم یافتہ بے روز گاروں نے لاکھوں روپے مالیت کے کھیمے کھانے پینے کی اشیاء اور دوسری اشیاء خریدنی تھی وہ انکے پاس بیکار پڑی ہے نہ ہول سیلروںکوواپس کر سکتے ہے نہ گھر میں استعمال کرسکتے ہے کاروبار ساحت کوفرغ دینے کے لئے ایسے بیروز گاروں نے بینکوںسے لون حاصل کیاتھا تاہم جب سرکار نے پابندی عائدکردی تو جہاں ان سیاحتی مقامار پر اب سناٹاچھانے لگا وہی بڑی تعداد میں نوجوان تعلیم یافتہ بے روز گا رروزی روٹی کی تلاش کے سلسلے میں دردر کی ٹھوکرے کھارہے ہے اور ان کا کہناہے سیاحتی مقامات پر خیمے نصب کرنے پابندی عائدکرنے سے سیاحت کوفروغ دینے کی آڑ میں بیروزگاری کوبڑھاو ادیاگیا۔سیاحتی مقامار پر خیمے لگانے والوں نے سرکار سے مطالبہ کیاکہ ا سطرح کے احکامات پر نظرثانی کی جائے اور سیاحوں سیلانیوں کی سہولیات کے لئے خیمے دوبارہ نصب کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ جونوجوان اوردوسرے لوگ اس وقت بیکار پڑے ہوئے ہے ا و ررو زگا رحاصل کرسکے اور جولون انہوں نے بینکوںسے خیمے اور کھانے پینے کاسامان خریدنے کے لئے نکالاہے وہ اس سے اد اکرسکے ۔










