ایس ایس بی کی جانب سے امیدواروں کیلئے سینٹروں کاقیام انصاف کے منافی /سیدآگاہ روح اللہ مہدی
سرینگر//حالیہ تبدیلیوں پرشکوک وشبہات کااظہار کرتے ہوئے این سی کے سینئرلیڈرسرینگر، گاندربل، بڈگام حلقے کے ممبرپارلیمنٹ نے الیکشن کمشن آف انڈیا سے کئی پولیس افسران ا ور دیگر افسران کی تبدیلوں کے بارے میں ضاحت او روجوہات فراہم کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے سروس سلیکشن بورڈ کی جانب سے لئے جانے والے امتحان کے لئے سینٹروں کے قیام پر فکروتشویش کااظہارکرتے ہوئے ادارے سے مطالبہ کاکہ امیدواروں کوراحت پہنچانے کے لئے ان کے امتحانی سینٹر قریب میں ہی قائم کئے جائے جموںو کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس سے سیاسی طور طریقے سے ہی حل کیاجاسکتا ہے ۔ریزولیشن پاس کرانے میں پی ڈی پی صد رکی جانب سے اٹھائے گئے سوال کے بارے میں ممبرپارلیمنٹ نے کہااگر وہ دیانت داری کے ساتھ اس موقعے پرقائم رہے گی تو ہم انہیں مایوس نہیں کرینگے ہمارامنشو رجموں وکشمیرکی وحدت انفرادیت اجتماعیت کابین ثبوت ہے ۔اے پی آ ئی نیوز کے مطابق سرینگر گاندربل،بڈگام حلقے کے ممبرپارلیمنٹ این سی کے سینئرلیڈر سیدآگا روح اللہ مہدی نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جموںو کشمیر انتظامیہ کی طرف سے حالیہ پولیس اور سیول انتظامیہ کی تبدیلوں پر فکروتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ جب الیکشن کمشن ااف انڈیا پہلی بار وادی کشمیر واردہوا تھا ہم نے ان سے شفاف اور غیرجانبدارانہ اسمبلی الیکشن کرانے کاپرزور مطالبہ کیاتھااو رہمیں امید ہے کہ الیکشن کمشن آ ف انڈیا قوائد وضوابط پر عمل کرانے کے لئے اپنے اختیارت کابھر پور استعمال کریگے۔ ممبرپارلیمنٹ نے کہاہرایک سیاسی پارٹی کوبرابر کے حقوق فراہم کئے جانے چاہئے او رکسی بھی سیاسی پارٹی یادیگراُمیدواروں کومشکلوںکاسامناناکرنا پڑے ۔انتظامیہ کی جانب سے تبدیلیوں او رتقریوںپرشکوک وشبہات کااظہا رکرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ بارہمولہ میں دس دن پہلے ایس ایس پی کی تبدیلی عمل میں لائی گئی تھی اوراچانک مزکورہ افسر کی تبدیلی عمل میں لانا حیران کن ہے۔ انہون نے کہاالیکشن کمشن آ ف انڈیاکو ایسی تبدیلوں تقرریوں کے بارے میں مکمل جانکاری اور وجوہات فراہم کرنے چاہئے تاکہ جوشکوک شبہات پیدا ہویئے ہے انہیں دو رکیاجاسکے ۔ممبرپارلیمنٹ نے کہاکہ تبدیلوں کے اس عمل نے سیاسی پارٹیوں کوشکوک میں مبتلاکردیاہے کہ کئی ایسا تو نہیں سیاسی پارٹیوں کود رپردہ حمایت کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمشن آف انٰڈیاکوتحریری طو پربھی ا س بات سے آگاہ کیاکہ ان تبدیلوں کے بارے میں وضاحت پیش کی جانی چاہئے ۔انہوں نے کہاجمو ںوکشمیرمیں اسمبلی الیکشن جمہوریت کا پہلازینہ ہے او راسے داغ دار کرنے کی کوشش کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاناچاہیئے ۔ممبرپارلیمنٹ نے سروس سلیکشن بور ڈکی جانب سے لئے جانے والے امتحان کے دوران اُمیدواروں کے لئے قا ئم کئے گئے سینٹروں پر فکروتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ دور دراز علاقوں کپوارہ ،اوڑی ،بانڈی پورہ، گاندربل سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لئے جنوبی کشمیر میں امتحانی سینٹرقائم کرنا انصاف کے مترادف ہے انہیں اپنے فیصلے پرنظرثانی کرکے امیدواروں کو نزدیک امتحانی سینٹرقائم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائے۔اسمبلی الیکشن کے بعد نیشنل کانفرنس کی جانب سے قرا رداد پیش کرنے کے بارے میں پی ڈی پی صد رکیاجانب سے اٹھائے گئے سوال کے جواب میں سیدآگاہ روح اللہ مہدی نے کہاکہ نیشنل کانفرنس اٹانومی کوپہلی ترجیحی دیتی ہے اوراگرپی ڈی پی صد رنے نیک نیتی او ردیانت داری کے سوال اٹھائے ہے وہ اس پرقائم رہے اور ہمیں کئی بھی کمزور نہیں پائیگی۔ ممبر پارلیمنٹ نے کہاکہ جموںو کشمیر سے 370-35Aکوحذ ف کرنا ایک بات ہم دونوں مدعو پر اپنی خدمات صدق دلی کے ساتھ انجام دینے کی بھرپور کوشش کرتے رہے گے اور یہ ہمارا حق بھی ہیں۔ ممبرپارلیمنٹ نے کہاجموں وکشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے پاکستان کتنا کمزور کیوں ناہوبھارت کوبات چیت کرنی چا ہئے ۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ دور میں بات چیت اہمیت کی حامل ہے اور مسائل کوحل کرنے کے سوا دونو ںممالک کواور کوئی چارہ نہیںہے ۔انہوں نے این سی کے منشو رکوجموںو کشمیرکی وحدت انفرادیت اجتماعیت کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے لوگوں سے تلقین کی کہ وہ اس کابھرپورمطالع کرے پھرسوالات اٹھائیں ۔










