جموں کشمیر کے سیاسی مستقبل کیلئے یہ اتحاد اہم ثابت ہوگا۔عمر عبداللہ
سرینگر//نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ انتخابات سے قبل کانگریس کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ مشکل تھا کیوں کہ ہمیں ان نشستوں کو چھوڑنے کی قربانی دینی پڑی جہاں سے ہمیں جیت کا یقین تھا۔ تاہم انہوںنے کہا کہ یہ فیصلہ جموں کشمیر کی سیاست کیلئے ایک اہم فیصلہ ثابت ہوگا ۔ کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے اپنے دادا جان شیخ محمد عبداللہ کی جانب سے رائج پی ایس اے کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے اس معاملے کو اپنے انتخابی منشور میں رکھا ہے تاکہ اقتدار کے بعد اس ایکٹ کو ختم کیا جائے جس کے تحت سالہا سال سے نوجوان قیدہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ انتخابات سے قبل اتحاد میں شامل ہونا اور اس کے بعد کانگریس کے ساتھ سیٹوں کی تقسیم آسان فیصلہ نہیں تھا۔کارکنوں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ قبل از انتخابات اتحاد میں شامل ہونا آسان نہیں تھا کیونکہ پارٹی کو ان نشستوں کی قربانی دینا پڑتی ہے جہاں اسے جیتنے کا یقین تھا۔تاہم، انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ اتنا اثر انگیز تھا کہ ان کے اتحاد کو حتمی شکل دیتے ہی نتیجہ سامنے آیا۔عمر نے کہاکہ اس کا نتیجہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے انتخابی مہم سے کنارہ کشی اختیار کر لی،” عمر نے کہا، انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کی لڑائی یا ان کے لیڈروں کی لڑائی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اجتماعی لڑائی ہے جو جموں اور کشمیرکے لوگوں کو مہلت دے گی۔ لوگوں کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں سے کچھ کو جیلوں میں رکھا گیا ہے، جب کہ کچھ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، لیکن این سی نے اپنے منشور میں واضح کیا ہے کہ اگر اقتدار میں منتخب ہوئے تو جموں و کشمیر سے PSA کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔انہوںنے کہا کہ اس ایکٹ کے تحت نوجوان سالہا سال سے قید ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ کانگریس اور نیشنل کانفرنس کا اتحاد جموں کشمیر کی سیاست میں اہم ثابت ہوگا۔










