کشمیر اکنامک الائنس کا انتظامیہ کو فنسنگ لگانے میں مالی معاونت کی پیشکش
سرینگر// کشمیر اکنامک الائنس نے وادی میں خود کشیوںکے بڑتے ہوئے گراف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سرکار کو سرینگر میں دریائے جہلم کے پلوں کے اطرف میں تاربندی کا مشورہ دیا۔ الائنس نے تاربندی(فنسنگ) میں انتظامیہ کو معاونت دینے کا اعلان کرتے ہوئے خود کشی کے اعتبار سے پر خطر مقامات پر ہمہ وقت کناروں پر ماہر محافطین کو تعینات کرنے پر زور دیا۔کشمیر اکنامک الائنس کے شریک چیئرمین فاروق احمد ڈار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرینگر میں دریائے جہلم پر کئی مقامات پر پل’خود کشی پوائنٹوں‘ میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بڈشاہ کدل،صفاکدل، نور باغ پل اور دیگر پل خود کشی کے مقامات میں تبدیل ہوئے ہیں اور انتظامیہ کو چاہے کہ وہ اس عمل پر قدغن لگانے کیلئے ان پلوں کے آس پاس ماہرین کوسٹ گارڈوں کو تعینات کریں اور انہیں اہم ضروری ساز و سامان سے لیس کریں۔ ڈار نے کہا کہ ان پلوں کے اطراف میں تار بندی یا جنگلہ لگانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے پلوں سے خود کشیوں کے رجحان کو خم کیا جاسکتا ہے۔ ڈار نے کہا کہ اگر انتظامیہ چاہے تو اس عمل میں کشمیر اکنامک الائنس معاونت کرسکتی ہے۔انہوں نے کہا’’ اکنامک الائنس میں کانٹریکرس بھی ایک اکائی ہے اور اگر انتظامیہ کو فنڈس کا مسئلہ درکار ہے تو الائنس لوگوں سے چندہ کرکے ان پلوں پر تاربندی کرنے میں معاونت کرے گی‘‘۔ فاروق احمد ڈار نے سیول سوسائٹی اور علمائے کرام پر زور دیا کہ وہ خود کشیوں کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ان کا کہنا تھا’’ علمائے کرام کو چاہے کہ وہ جمعہ کے خطبات میں خود کشیوں کو روکنے میں لوگوں کو بیدار کریں‘‘۔ڈار نے کہا کہ خود کشی کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے اور خود کشی کرنے والوں کے جنازء ادا کرنے کی معمانت بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیول سوسائتی کو بھی چاہے کہ وہ ان خود کشیوں کی جڑ تک جائے اور ان پر قابو پانے کیلئے اپنا رول ادا کریں۔ منشیات کے پھیلا?،بے روزگاری اور ذہنی تنا? کو خود کشیوں کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے ڈار نے کہا کہ سماج کے ذی حس لوگوں کو چاہے کہ منشیات کا قلع قمع کرنے کیلئے متحد ہوجائے تاکہ اس ناسور کو جموں کشمیر سے جر سے ختم کیا جائے۔انہوں نے سرکار سے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری میں کوئی بھی انتہائی اقدامات اٹھانے کیلئے مجبور ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لڑکیوںکے ہاتھ مہندی لگانے کیلئے ترس رہے ہیں،اور وہ انکی عمر بھی نکل رہی ہے،تاہم معاشرہ اس جانب کبوتر کی مانند آنکھیں موند رہا ہے۔ ڈار نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ پریشانیوں سے خوف زدہ ہونے کے برعکس مشکلات سے جدوجہد کرنے کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں۔










