میلہ کھیر بھوانی میں شرکت کرنے کیلئے جموں سے5ہزار کشمیری پنڈت

میلہ کھیر بھوانی میں شرکت کرنے کیلئے جموں سے5ہزار کشمیری پنڈت

سخت حفاظتی حصار کے بیچ 200کے قریب گاڑیوں میں کا قافلہ وادی کیلئے روانہ

سرینگر///تولہ مولہ گاندربل میں میلہ کھیر بھوانی میں شرکت کرنے کیلئے سخت حفاظتی حصار میں جموں سے قریب 5ہزار سے زائد کشمیری پنڈیاتریوں کا قافلہ لگ بھگ 200گاڑیوں میں سوار ہوکر کشمیر کی طرف روانہ ہوا ہے ۔ یاترا کے قافلے کو ڈویژنل کمشنر جموں نے ہر جھنڈی دکھا کر روانہ کیا جبکہ ان کے قافلے کی حفاظت کیلئے فورسز گاڑیاں بھی قافلے میں شامل ہیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق وسطی کشمیر کے ضلع گاندربل کے تولہ مولہ علاقے میں ماتا کھیر بھوانی مندر میں حاضری دینے اور میلہ میں شرکت کیلئے 5,000 سے زیادہ لوگوں نے جن میں زیادہ تر کشمیری پنڈت برادری کے ارکان تھے، بدھ کو یہاں سے سخت سیکورٹی کے درمیان کشمیر میں سالانہ کھیر بھوانی میلے کے لیے اپنا سفر شروع کیاچارروزہ یاترا کا آغاز آج ڈویڑنل کمشنر (جموں) رمیش کمار، ریلیف کمشنر ڈاکٹر اروند کاروانی اور ممتاز کشمیری پنڈت رہنماؤں نے نگروٹا علاقے سے یاترا کو جھنڈی دکھا کر شروع کیا۔بھجن گاتے ہوئے اور منتر پڑھتے ہوئے، عقیدت مند 200بسوں میں وادی کشمیر کے پانچ مندروں کی یاتراکے لیے روانہ ہوئے۔ریلیف کمشنر ڈاکٹر اروند کاروانی نے یہاں اس ضمن میں بتایاکہ “5,000 سے زیادہ کشمیری پنڈت کھیر بھوانی میلے میں حصہ لینے کے لیے کشمیر کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ آج صبح سویرے نگروٹہ سے دوسوبسوں میں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان روانہ ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یاتری دوپہر کے کھانے کے لئے رام بن میں رکیں گے اور زور دے کر کہا کہ یاترا کے ہموار انعقاد کے لئے سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں۔جموں میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں، ایک یاتری نے کہاکہ ہمیں ان دہشت گردانہ حملوں سے خوف نہیں ہے۔ کب تک ہم خوف میں رہیں گے؟ ہمیں ماتا (دیوتا) کی حفاظت حاصل ہے۔کسم پنڈتا، جو منزگام میں ماتا خیر بھوانی کے پاس جا رہی ہیںنے کہا کہ خوف زدہ ہونے کے بجائے وہ یاترا میں شرکت کے لیے پرجوش ہیں۔سالانہ کھیر بھوانی میلہ، جو زیشت اشٹمی کو منایا جاتا ہے، 14 جون کو گاندربل میں تلمولہ، کپواڑہ میں ٹکر، اننت ناگ میں لکٹی پورہ اعشمقام، کولگام میں ماتا تری پورسندری دیوسر، اور کْلگام میں ماتا کھیر بھوانی منزگام کے مندروں پر بھی منعقد ہوگا۔اس سال ہندوستان کے مختلف حصوں اور بیرون ملک سے تقریباً 80,000 تارکین وطن کشمیری پنڈتوں کی آمد متوقع ہے۔یہاں یہ امر قابل خر ہے کہ گزشتہ اتوار کو دہشت گردوں نے ایک بس پر فائرنگ کی جو یاتریوں کو شیو کھوری مندر سے کٹرا میں ماتا ویشنو دیوی کے مندر پر لے جا رہی تھی، جس سے گاڑی سڑک سے الٹ گئی اور ریاسی میں گہری کھائی میں گر گئی، جس سے 9 افراد ہلاک اور 41 زخمی ہو گئے۔ڈوڈا ضلع میں، راشٹریہ رائفلز کے پانچ جوان اور ایک خصوصی پولیس افسر (ایس پی او) اس وقت زخمی ہو گئے جب دہشت گردوں نے بھدرواہ-پٹھانکوٹ سڑک پر چٹرگلہ کے بالائی علاقوں میں ایک مشترکہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔کٹھوعہ میں دہشت گردوں نے منگل کی شام بین الاقوامی سرحد کے قریب ایک گاؤں پر حملہ کر کے ایک شہری کو زخمی کر دیا۔ اس کے بعد کی تلاشی کارروائی کے دوران، ایک دہشت گرد مارا گیا جب کہ دوسرے چھپے ہوئے دہشت گرد کوبعد میں ہلاک کیا گیا ۔ بدھ کی صبح تقریباً 3 بجے کٹھوعہ کے گاؤں میں چھپے ہوئے ایک دہشت گرد کی فائرنگ میں سی آر پی ایف کا ایک جوان شدید زخمی ہوگیا۔