jammu kashmir

جنگلاتی اراضی بنک قائم کرنے کا فیصلہ

جنگلاتی وغیر جنگلاتی اور بنجر اراضی کی نشاندہی کی جائے گی

سرینگر// حکومت نے غیر جنگلاتی اراضی لینڈ بینک کا قیام عمل میں لانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ غیر جنگلاتی مقاصد کیلئے منتقل شدہ جنگلاتی اراضی کا معاوضہ دیا جائے۔ یہ اراضی جنگلاتی(تحفظ و فروغ)عمل مجریہ1980کے تحت منتقل کیا گیا ہے۔پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹس و فارسٹ فورس کے سربراہ کی سربراہی والی کمیٹی کو جنگلاتی وغیر جنگلاتی اور بنجر اراضی اور اس طرح کے دیگر تمام زمروں کی غیر جنگلاتی و بنجر زمینوں کی نشاندہی کرنے کی ہدایت دی ہے، جو جموں و کشمیر کے محکمہ جنگلات کے انتظام یا انتظامی کنٹرول کے تحت نہیں ہے اور اس اراضی پر معاوضہ دار جنگلات کے لیے مجوزہ لینڈ بینک میں شامل کرنے کیلئے جنگلات(تحفظ و فروغ)عمل مجریہ1980 کے دفعات اورجنگلات(تحفظ و فروغ)عمل ضوابط، 2023 لاگو ہوتے ہیں۔وائس آف انڈیا کے مطابق جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری حکم نامہ کے مطابق اس جنگلاتی ،غیر جنگلاتی و بنجر اراضی میںریونیو لینڈ،غیرممکن جھاڑ،غیرممکن جنگل،غیرممکن پہاڑ،بنجر قدئم،غیرممکن کھڈ اور کوئی بھی دوسری بنجر زمینیں اور غیر جنگلاتی زمینیں جو محکمہ ریونیو کے غیر متنازعہ قبضے میں ہیں۔اس ارضی میں رہائش گاہوں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے کے لیے وائلڈ لائف راہ ہائے گزر جو اس دائرے میں آتے ہوں۔ایسے علاقوں کے استحکام کو یقینی بنانے کیلئے محفوظ علاقوں اور ماحولیات کے اعتبار سے حساس علاقے اور اس کے آس پاس آنے والے علاقے بھی شامل ہیں۔سرکار کا کہنا ہے کہ اس اراضی کے تحت کمیٹی ان مقامات کی بھی نشاندہی کرے گی جو’’ خطرے سے دوچار اور نایاب انواع نباتات اور حیوانات کا مسکن ان علاقوں میں واقع ہے جو جموں کشمیرجنگلات اور محکمہ وائلڈ لائف پروٹیکشن کے براہ راست انتظامی اور انتظامی کنٹرول میں نہیں ہیں تاکہ ایسے رہائش گاہوں کے طویل مدتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘11رکنی کمیٹی کو جنگلاتی وغیر جنگلاتی اور بنجر اراضی کے تحت’’ اہم دریاؤں کے گرد نواح والے علاقوں،پانی سپلائی اسکیموں، آبپاشی اور پن بجلی پروجیکٹوں‘‘ کی نشاندہی کا کام بھی سونپا گیا ہے۔ حکومت نے کہا ہے کہ کمیٹی جی ایم جھار، کھڈ، پھٹ وغیرہ کے طور پر ریکارڈ شدہ نجی زمینیں جو پرائیویٹ افراد کے قبضے میں ہیں، انہیں بھی لینڈ بینک بناتے وقت اس کے قانونی تناظر میں دیکھے گی۔ کمیٹی کو ا نشاندہی کے دوران ایسی اراضی کی نشاندہی کرکے محفوظ کرنے کو ترجیج دینے کی ہدایت دی گئی ہے جو ختم ہونے کی دہلیز پر ہے۔اس ارضی میںشہر کے جنگلات، درختوں و پودوں کے مقام ، اور ایسی قیمتی زمین جو تجاوزات کا شکار ہو۔ اس کمیٹی کومحکمہ مال سے زمین کی ر حصولیابی سے نمٹنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔کمیٹی محکمہ جنگلات وماحولیات اور محصولات کو ماہانہ رپورٹیں پیش کرنے اور اس مقصد کے لیے سافٹ ویئر کی ترقی کیلئے رسائی پر مبنی اپ ڈیٹ اور رپورٹ کیلئے ایک ڈیش بورڈ تیار کرنے کے امورات بھی کمیٹی کو سونپے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے نامزد کمیٹی میںپرنسپل چیف کنزرویٹر فارسٹس و چیف وائلڈ لائف وارڈن،محکمہ جنگلات و ماحولیات کے ڈائریکٹر،محکمہ مال کے ایڈیشنل سیکریٹری(جو اراضی کے معاملات سے منسلک ہو)کشمیر اور جموں صوبوں کے صوبائی کمشنر کی طرف سے نامزد نمائندے(جو اسسٹنٹ کمشنر سے کم نہ ہو) مالیاتی کمشنر ،مال کے دفتر میں انتظامی افسراور محکمہ جنگلات و ماحولیات کے سپیشل سیکریٹری(ٹیکنیکل)،نوڈل افسر ایف سی اے،اے سی سی ایف اس کمیٹی کے ممبران ہونگے۔