heat

وادی میں شدید گرمی ،جون سے قبل ہی درجہ حرارت بڑھا

گرمائی لہر سے نپٹنے کیلئے عملی منصوبہ مرتب،11محکموں کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ

سرینگر//نتظامیہ نے سرینگر کیلئے امسال’ گرمائی لہر‘ سے نپٹنے کیلئے عملی منصوبہ( ایکشن پلان )مرتب کیا ہے اور اس سلسلے میں11محکموں کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ سرینگرکے گنجان رہائشی اور تجارتی علاقوں کے ساتھ مضافاتی علاقوں میں تیزی سے آبادی میں اضافے اور بدلتی ہوئی زمین کا استعمال ضلع کو ’’اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ‘‘ )حرارتی جزئرے کے اثرات)کا ایک موافق کیس بناتا ہے جس سے ہمارے غیر معمولی زیادہ درجہ حرارت کے خطرے میں اضافہ ہوتا ہے۔حرارتی لہر ماحولیاتی درجہ حرارت کی ایک ایسی حالت ہے جو جسمانی تناؤ کا باعث بنتی ہے اور بعض اوقات جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن گرمی کی لہر کو لگاتار5 یا اس سے زیادہ دنوں کے طور پر بیان کرتی ہے جس کے دوران روزانہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت اوسط پانچ ڈگری سیلسیس سے زیادہ ہو جاتا ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق قومی آفات سماوی مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق، گرمائی لہر غیر معمولی طور پر زیادہ درجہ حرارت کا دورانیہ ہے، جو موسم گرمامیں ہونے والے اوسطً زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت سے زیادہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، گرمی کی لہر کی حالت اس وقت ہوتی ہے جب کسی جگہ کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت پہاڑی علاقوں میں کم از کم 30 ڈگری سیلشیس یا اس سے زیادہ تک پہنچ جاتا ہے۔ضلع آفات سماویٰ انتظامی کا کہنا ہے کہ سرینگر میںگرمی کا موسم جون میں شروع ہوتا ہے اور گرم درجہ حرارت اور نمی کی اعلی سطح کے ساتھ اگست میں ختم ہوتا ہے۔ ان مہینوں کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 24.4 ڈگری سیلشیس سے34 ڈگری سیلشیس کے درمیان جبکہ کم از کم درجہ حرارت 12ڈگری سیلشیس سے 17 ڈگری سیلشیس تک ہوتا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ شدید گرمی کی لہر موسمیاتی تبدیلی کا اشارہ ہے اور طویل مدت میں،گرمی کی لہر کشمیر کی اہم فصلوں اور سیاحت کی صنعت کو متاثر کرنے کا رجحان رکھتی ہے اور اگر درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جاتا ہے تو سیبوںکے پودوںمیں ہارمونل تبدیلی واقع ہوتی ہے، جس سے اس کی مجموعی پیداوار متاثر ہوتی ہے اورزعفران کی کاشت بھی گرمی کی لہر سے متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاحت کی صنعت اور سیاحت پر منحصر معیشتیں بھی بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے اثرات سے بہت زیادہ کمزور ہیں۔ موسم گرما میں سرینگر آنے والے سیاحوں کیلئے بہترین اوقات مئی کے وسط سے جولائی کے آخر تک اور اگست کے شروع سے اکتوبر کے اوائل تک ہوتے ہیں، جو کہ زیادہ درجہ حرارت اور گرمی کی لہروں کے لیے زیادہ خطرہ کا دور ہوتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں معیشت کو بھی نقصانات پہنچتا ہے اور ایام کار بھی کم ہوتے ہیں۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں گرمائی لہر سے نپٹنے کیلئے ضلع سری نگر کیلئے جو عملی منصوبہ تیار کیا گیا ہے جو شدید گرمی سے نپٹنے کے دعمل کے نفاذ، رابطہ کاری اور تشخیص کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے اور حیات وپیداواری صلاحیت کے نقصان کو روکنے کے لیے تخفیف اور موافقت کے اقدامات پر رہنمائی کرتا ہے۔ منصوبے کا بنیادی مقصد شہریوں کو گرمی سے متعلق خطرے سے آگاہ کرنا ہے، جیسے کہ ایسی جگہوں پر کیا جاتا ہے جہاں شدید گرمی کی صورتحال یا تو موجود ہے یا قریب ہے، اور مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہے۔ گرمائی یکشن پلان لوگوں میں گرمی سے متعلق کمزوری کو جانچنے کے لیے احتیاطی، تخفیف اور موافقت کے اقدامات کو نافذ کرنے کے لیے ضلع بھر کی حکمت عملی کے لیے تمام متعلقین کو اکٹھا کرتا ہے۔انتظامیہ نے بتایا کہ گرمی کی لہر کے انتظام ا ور اس معاملے میں کسی بھی آفت کے لیے میں کردار اور ذمہ داریوں کے بارے میں زیادہ واضح ہونے کی ضرورت ہے،۔ان کا کہنا تھا کہ ایک مرکزی ایجنسی ایک خاص قسم کی ہنگامی صورت حال کے ردعمل کی قیادت کرے گی جبکہ امدادی ایجنسیاں کسی کنٹرول ایجنسی یا متاثرہ شخص کی مدد کیلئے وسائل، ،عملہ ،ضروری خدمات اور مواد مہیا کرے گی۔اس سلسلے میں ایک مرکزی ایجنسی کو تشکیل دیا گیا ہے جس کی کمان ضلع ترقیاتی کمشنر کو سونپی گئی ہے جبکہ20رکنی ٹیم میںایڈیشنل ڈپٹی کمشنر،سرینگر،اقیس ایس پی سرینگر،چیف میڈیکل افسر،ڈائریکٹر ،محکمہ موسمیات، سپر انٹنڈنٹ ہائیڈرولک سرینگر،چیف ایجوکیشن سرینگر،ڈپٹی ڈائریکٹر اطلاعات،ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروس، ایس ڈی ایم،ایسٹ سرینگر، ایس ڈی ایم ویسٹ،ہیڈ کواٹر اسسٹنٹ،ضلع آفات سماویٰی منیجمنٹ آفسر،مرکزی شالٹینگ،چھانہ پورہ،نٹی پورہ،عیدگاہ،خانیار،پانتھ چوک،سرینگر نارتھ،سرینگر ساوتھ کے تحصیلداروں کے علاوہ ڈی ڈی ایم ائے کے کنسلٹنٹ شامل ہیں۔سرکار نے تحصیلی سطح پر گرمائی لہر کی ٹیموں کو تشکیل دیا ہے جس کی کمان متعلقہ تحصیلداروں کو سونپی گئی ہے۔اس سلسلے میں مختلف محکموں کو مختلف ذمہ داریان سونپی گئی ہے،جن میں محکمہ موسمیات کوگرمی کی لہر انتباہی الرٹ جاری کرنے کے علاوہ مختصر،درمیانی اورطویل رینج کے دورانیے پر موسم کی پیشن گوئی، ز مواصلات اور ضلع وار درجہ حرارت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔محکمہ تعمیرات عامہ،ٹریفک پولیس اور آبپاشی و فلڈ کنٹرول محکمہ کو سردچھتوں کے ساتھ شیلٹروشیڈز اوربس اسٹینڈوںکی تعمیر کے علاوہ گرمی کے انتباہ کی مدت کے دوران پناہ گاہوں اور پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے علاقوں کی شناخت کرنے نیز اہم مقامات اور پراجیکٹ مقامات اور شہر کے چوکوں پر پینے کا پانی مہیا رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔محکمہ ٹرانسپورٹ کو گرمی کی لہر سے متعلق بیماری سے بچاؤ کے لیے پوسٹر نصب کرنے اور پمفلٹ تقسیم کرنے کے علاوہ پینے کی سہولیات کے ساتھ مناسب بس شیلٹروںکی دستیابی کو یقینی بنانیکی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔محکمہ افزائش جانور کو گا?ں اور اہم چوراہوں پر گرمی کے دوران مویشیوں اور پولٹری پرندوں کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے احتیاطی اقدامات پر پوسٹر لگانے اور کتابچے تقسیم کرنے کے علاوہ تمام ویٹرنریوں و ہسپتالوں میں ادویات کے مناسب سٹاک کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔محکمہ تعلیم کو گرمی کی لہر کے اعلان کے ساتھ ہی اسکول 12 بجے سے4بجے تک بند رکھنے اور کھلی فضا میں کلاسیں منعقد نہ کرنے کے عمل کو یقینی بنانے کی تاکید کی گئی ہے۔وی او آئی کے مطابق ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر و ضلع آفات سماویٰ انتظام کے چیئرمین ڈاکٹر بلال محی الدین نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ سرینگراونچائی پر واقع ہونے کے باوجود، پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں سے گھرا ہوا ہے اور بڑے آبی ذخائر سے گھرا ہوا ہے تاہم زیادہ درجہ حرارت کی لہرسے محفوظ نہیں ہے۔ ضلع سری نگرمیں ستمبر 2023 میں 1891 کے بعد سے اب تک کا دوسرا سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا۔ان کا کہنا ہے کہ طویل مدت میں اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے، گرمی میں کمی کے لیے بین محکمہ جاتی کوششیں کی جا رہی ہیں جن کا مقصد ’گرین اسپیس‘(تمام شہری زمین کسی بھی قسم کی پودوں سے ڈھکی ہوئی جن میں گلیوں کے درخت، باغات، پارکیں، عمارتوں کے ارد گرد زمین کی تزئین، کھیلوں کے میدان، پھولوں کے چمن، تالاب، سبز داخلی راستے، سبز چھتیں وغیرہ)کی تعمیر، الیکٹرک بسیں، آبی اور نمبل کی زمینوں کی غیر قانونی تبدیلی کی روک تھام اور آبی ذخائر اور شہری جنگلات پر تجاوزات کو روکنا ہے شامل ہیں۔ ڈاکٹر بلال کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ تخفیف کے اقدامات کا ایک پیکج ہے اور اس کا مقصد شہریوں کی زندگیوں کو انفرادی ذریعہ معاش یا چھوٹی معیشتی نمو اور استحکام کو متاثر کیے بغیر تحفظ فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا یہ ایکشن پلان گرمی کے خطرے کی روک تھام، کمی اور تخفیف سے متعلق مختلف پہلوؤں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے اور اس کا مقصد گرمی کی لہر کے اثرات کو کم کرنے کے لیے محکموں، افراد اور کمیونٹی پر مبنی اداروں سمیت تمام متعلقین کے درمیان ہم آہنگی کی سہولت فراہم کرنا ہے۔