dooran

کٹھوعہ: ڈگر، جوٹھانا کے بعد اب لکھن پور کے قصوری میں مشکوک نظر آئے

سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، بڑے پیمانے پر آپریشن جاری

سرینگر// کٹھوعہ ضلع کے ڈگر اور جوٹھانا گاؤں کے بعد اب لکھن پور تھانہ علاقے کے تحت آنے والی پولیس چوکی بسنت پور سے متصل قصوری گاؤں میں اسکولی بچوں نے ایک مشتبہ شخص کو دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی ہے۔جس کے بعد پورے علاقے کو محاصرے میں لیکر مشکوک افراد کی تلاشی شروع کی گئی ۔وائس آف انڈیا کے مطابق لکھن پور تھانہ علاقہ کے تحت آنے والے پولیس چوکی بسنت پور سے متصل قصوری گاؤں میں اسکولی بچوں نے ایک مشکوک شخص کو دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا۔ذرائع نے بتایا کہ جموں ڈویڑن میں مسلسل مشکوک افراد کے دیکھنے کی اطلاعات کے درمیان عام شہری خوف میں مبتلا ہیں۔ کٹھوعہ ضلع کے ڈگر اور جوٹھانا گاؤں کے بعد اب لکھن پور تھانہ علاقے کے تحت آنے والی پولیس چوکی بسنت پور سے متصل قصوری گاؤں میں اسکولی بچوں نے ایک مشتبہ شخص کو دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی ہے۔ جمعرات کو لکھن پور پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔معلومات کے مطابق لکھن پور کے قصوری گاؤں کے بچے جب صبح اسکول جارہے تھے تو انہوں نے پہاڑی پر ایک اجنبی کو دیکھا، جو وہاں سے بھاگ گیا۔ بچوں نے اس کی اطلاع اپنے گھر والوں کو دی۔ اہل خانہ نے واقعے کی اطلاع پولیس کو دی۔اس کے بعد پولیس اہلکاروں نے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں پھیلے جنگلاتی علاقے میں تلاشی مہم شروع کی۔ اس کے ساتھ بچوں کے والدین سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔مقامی رہائشی کرن سنگھ نے بتایا کہ ان کے گاؤں کے بچے صبح اسکول جارہے تھے کہ راستے میں پہاڑی کے قریب انہوں نے کالے کپڑے پہنے ایک مشکوک شخص کو دیکھا۔ جب انہوں نے اس آدمی کو دیکھا تو وہ بھاگ گیا اور بچے خوفزدہ ہو کر گھر واپس آگئے۔ گاؤں والوں نے پولیس کو اطلاع دی۔اس نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر پولیس کو اس کی اطلاع دی۔ ایک اور شہری نے بتایا کہ صبح جیسے ہی یہ واقعہ سامنے آیا تو علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا۔ اب سب خوفزدہ ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات کے پیش نظر جن کے لائسنس یافتہ ہتھیار پولیس کے پاس رکھے گئے ہیں انہیں واپس کیا جائے تاکہ لوگ خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔ دوسری جانب پولیس نے دن بھر سرچ آپریشن جاری رکھا۔