علاقہ کی فضاء آج بھی سوگوار، لاش کو پانے سے نکالنے کیلئے کارروائی ہنوز جای
سرینگر/ //بٹوارہ گنڈ ہ بل علاقے میں پیش آئے واقعے کا ایک ماہ مکمل ہوچکا ہے اور ابھی بھی ایک شخص کی لاش برآمد نہیں ہوسکی ہے اور گزشتہ یک ماہ سے علاقہ برابر سوگوار بنا ہوا ہے ۔ جبکہ27اپریل کو 12ویں روز ایک اور بچے کی لاش نورباغ میں دریائے جہلم سے برآمد ہوئی تھی جبکہ اس سے ایک دن پہلے زیرو برج راجباغ کے قریب ایک بچے کی لاش ملی تھی ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق سرینگر کے گنڈہ بل علاقے میں 16 اپریل کو دریائے جہلم میں کشتی الٹنے کے واقعے کو ایک ماہ مکمل ہوچکا ہے تاہم ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی اس سانحہ میں لاپتہ ہوئے افراد میں سے سے ایک کی لاش ہنوز نہیں ملی ہے ۔ اس واقعے کے ایک ماہ گزرنے کے باوجود بھی گنڈ بل علاقہ کی فضاء سوگوار ہے ۔ ادھر اس سانحہ کے 11روز بعد تین لاپتہ افراد میں سے ایک بچے کی لاش 26اپریل کو سرینگر کے راجباغ میں دریائے جہلم سے برآمد ہوئی تھی جبکہ 27اپریل کو نورباغ سری نگر سے 12 دن بعد دریا سے برآمد کی گئی۔ دو بچوں کے بعد ایک بچے کے والد کی لاش دریائے سے باہر نہیں نکالی جاسکی اگرچہ این ڈی آر ایف، پولیس اور دیگر لوگ ایک ماہ سے برابر کوششیں کررہے ہیں اور گنڈ بل کے رضاکار اہر صبح دریائے جہلم میں لاش کی تلاش کے کام میں مشغول رہتے ہیں تاہم ابھی تک انہیں اس میں کائی کامیابی نہیں ملی ۔ واضح رہے کہ بٹوارہ گنڈ بل سانحہ ایک ماہ گزر چکا ہے اور اس علاقہ میں گزشتہ ماہ سے صف ماتم بچھی ہوئی ہے ۔ آج بھی علاقہ کا ہر گھر ماتم کناں ہے گزشتہ ماہ 16اپریل کو گنڈ بل بٹوارہ میں دریائے جہلم میں تقریباً 19 افراد کو لے جانے والی کشتی ڈوبنے کے بعد شروع ہونے والا ریسکیو آپریشن بارہویں روز بھی جاری رہا ۔ پہلے ہی روز اس سانحے میں چھ افراد ڈوب کر ہلاک اور دس افراد زندہ بچ گئے۔باپ بیٹے سمیت تین افراد لاپتہ تھے جن میں سے ایک بچے کی لاش 26اپریل اور دوسرے بچے کی لاش 27اپریل کو ملی تھی ۔ جبکہ ایک اور شخص کی لاش ڈھونڈنے کیلئے ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، پولیس، فوج کے علاوہ دیگر افراد کی ٹیمیں جو پانی سے لاشوں کو نکالنے میں مہارت رکھتی ہیں، اس آپریشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مصروف ہیںذرائع نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن اس وقت دریائے جہلم کے متعدد مقامات پر جاری ہے اور مختلف مقامات کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ ادھر گزشتہ ماہ یعنی اپریل 22 تاریخ کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے گنڈل بل علاقے کا دورہ کیا جہاں انہوںنے دریائے جہلم میں ڈوب از جان ہوئے اور لاپتہ افراد کے کنبوں کے ساتھ ملاقات کی تھی اور ان کی ڈھارس بندھائی ۔










