جموں و کشمیر کے عوام مایوسی، بے اطمینانی اور بددلی کا شکار/ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سرینگر // کوئی بھی مذہب بُرا نہیں ہوتا، انسان بُرے ہوتے ہیں، کوئی مذہب یہ درس نہیں دیتا کہ کسی بے گناہ کو مارو، کوئی مذہب نہیں کہتا کہ کسی کا گھر جلائو ، کوئی مذہب نہیں سکھاتا کسی کے گھر کو لوٹو لیکن کے باوجود ملک میں اس وقت وزیرا عظم سمیت بھاجپا کے تمام لیڈران مسلمانوں کیخلاف زہر افشائی کرتے پھر رہے ہیں اور ہندوئوں میں خوف پیدا کرنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔سی این آئی کے مطاق ان باتوں کا اظہار صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ضلع کپوارہ کے حلقہ انتخاب کرناہ میں چوکی بل کے مقام پر ایک چنائوی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، لیڈر خالد نجیب سہروردی، ایڈوکیٹ میر سیف اللہ، قیصر جمشید لون، دین محمد چیتا اور ڈی ڈی سی ممبران بھی موجود تھے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مودی جی یہ بھول گئے ہیں کہ وہ پورے ملک اور تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے وزیر اعظم ہیں اور اسی لئے آج کل وہ مسلمانوں کیخلاف کھلم کھلا زہرافشائی کرتے پھر رہے ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ یہاں ایک ہی مذہب رہے اور باقی مذاہب ان کے تابع رہے، یہی ہم کو بولے کہ آپ کے کھائوگے، آپ کے پہنو گے، آپ کیسے نماز پڑھو گے اور آپ کس راستے پر چلو گے۔ یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور جموںوکشمیر نے ایک ایسے ہندوستان کیساتھ الحاق کیا ہے، جہاں ہر ایک مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں اپنی مذہبی آزادی حاصل ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ حکمرانوں کی بوکھلاہٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج سرینگر پارلیمانی نشست پر ووٹنگ سے پہلے ہی ہمارے چیدہ چیدہ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، فون کرکے دھمکیاں دی گئیں اور کچھ کی گرفتاری پولنگ کے دوران عمل میں لائی گئی، لیکن مجھے اُمید ہے کہ اس کے باوجود بھی یہاں کے عوام بھاجپا اور اس کی پراکسیوں کے مذموم اداروں کو خاک میں ملا کر نیشنل کانفرنس کو بھر پور تعاون اور اشتراک فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر و لداخ کے عوام اس وقت ناگفتہ بہہ ، پریشان کُن اور تکلیف دہ حالات سے دوچار ہے۔ بے روزگاری، بے کاری، غربت، لاچاری اور کسمپرسی اپنی حدود کو فلانگ چُکیں ہیں۔ غربت کے مارے عوام کو فکر و پریشانی نے اندر اندر سے کھوکھلا کیا ہو اہے۔ نوجوان چاہئے تعلیم یافتہ ہوں، یا غیر تعلیم یافتہ، بے روزگاری کی چکی میں پسے جارہے ہیں اور انتظامیہ میں بااختیار لوگوں کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی ہے۔ غریب مزدور ، محنت کش چھوٹے تاجر، دکاندار، کسان، کاریگر، دہاڑی مزدور، ڈیلی ویجر، کیجول لیبر اور اسی سطح کے دوسرے لوگ مہنگائی کے اَتھا سمندر میں گوتہ زن ہیں۔ یہاں ہرطرف مایوسی، بے اطمینانی اور بددلی کا اظہار ہورہاہے۔ عوامی کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ عوام خوف زدہ ہیں اور ہرطرف ایک دہشت کا ماحول ہے۔ انتظامیہ کی بے حسی اور عوام سے لاتعلقی نے عوامی مشکلات میں روزافزوں اضافہ کیا ہے۔ آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی، بجلی کی نایابی، سڑکوں کی خستہ حالات، پینے کے پانی کی غیر مرتب بہم رسانی، راشن کی کمی، رشوت خوری اور حکومت کے عوام دشمن رویئے نے عوام میں مایوسی اور انتشار پھیلایاہے۔










