پارٹی کے سیاسی نظریہ کے ساتھ ہمیشہ تھے اور رہیں گے ،پارلیمانی امیدوار برائے بارہمولہ عمرعبداللہ کی غیر مشروط حمایت کریں گے / عبدالرشید شاہیں
سرینگر / /لوک سبھا انتخابات کو لیکر تشہیری مہم زور پر ہے ۔ملک بھر کے ساتھ ساتھ کشمیرمیں تمام پارٹیوں کے سرکردہ لیڈران انتخابی مہم چلانے میں کافی متحرک ہیں ۔مہم کے دوران ووٹران کے بیچ جاکر دعوے اور وعدے کررہے ہیں ۔اس دوران منجھے ہوئے معروف سیاستدان عبدالرشید شاہین جو دو بارممبر پارلیمنٹ اورکئی بار اسمبلی میں کابینہ وزیر رہ چکے ہیں اور نیشنل کانفرنس کے بنیادی کارگذار ہونے کا بھی ان کو شرف حاصل ہے نے پارلیمانی انتخابات میں بارہمولہ کے پارلیمانی امیدوار اور نیشنل کانفرنسل کے نائب صدر عمرعبداللہ کو بھر پور حمایت دینے کا فیصلہ کرنے کے بعد باضابطہ طور اعلان کیا کرتے ہوئے کہا کہ وہ عمر عبداللہ کو ہر سطح پر غیر مشروط حمایت دیں گے ۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق سیاسی سرگرمیوں اور انتخابات کے تئیں جاری مہم کے دوران عبدالرشید شاہین نے میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ نیشنل کانفرنس جموںو کشمیر کی انفرادی حیثیت اوراس کی بنیادی شناخت کو محفوظ رکھنے کیلئے واحد محافظ سیاسی جماعت ہے ۔انہوں نے نمائندوں کے سوالات کے جواب میں یہ بات بھی واضح کی کہ انہوں نے نیشنل کانفرنس کو کبھی چھوڑا ہی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کا ایکPolitical consuptہے جس کی بنیاد قدآوراوربالغ النظر سیاستدان شیخ محمد عبداللہ نے رکھی ہے اور اس نظریہ consupt کے ساتھ ہمارے باپ دادا وابستہ رہ چکے ہیں اور اس نظریہ پر بے شمار قربانیاں دی ہیں ۔جیلیں کاٹی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ سالہاسال جیلوں میں رہے ہیں ۔یہاں تک انہوں نے گریجویشن کے امتحان جیلوں سے ہی دیکر پاس کئے ہیں ۔نمائندوں کے سوال کہ آپ نے کیوں نیشنل کانفرنس سے دور رہ کر خاموشی اختیار کی تھی ؟ کے جواب میں عبدالرشید شاہین نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کا یہ روز اول سے دستور رہا ہے کہ اس میں لوگ آتے رہتے ہیں لیکن لوگ اس میں شامل ہوئے جن کا طریقہ کار بنیادی نظریہ کے منافی تھا اس طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے خاموشی اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھی ۔دوسری سیاسی پارٹیوں کے نظریہ کو یکسر رد کرتے ہوئے عبدالرشید شاہین نے کہا کہ وہ پارٹیاں مفاد عامہ کیلئے نہیں بلکہ دلی کی ہدایت پر لوگوں کے ساتھ استحصال کرتے ہیں ،لوگوں پر ظلم وستم ڈھاتے ہیں اور مرواتے ہیں اور بندر بانٹ کرکے یہاں کی بنیادی اورانفرادی شناخت کو ختم کر نے پر روزاول سے تلے رہے ہیں ۔تاہم نیشنل کانفرنس ایک ایسی سیاسی جماعت ہے جس نے ہمیشہ اور روز اول سے یہاں کی انفرادی شناخت کوبچانے کیلئے کام کیا ہے اور کررہی ہے اور نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دلی کے ساتھ این سی تعلقات ہیں لیکن این سی ہی وہ واحد پارٹی ہے جو حقوق کی بحالی کیلئے دلی سے لفاظی ،اخلاقی جنگ لڑرہی ہے جبکہ دوسری جماعتیں یہاں کی انفردای شناخت کو مسخ کرنے کی کوششوں میں ہمیشہ مشغول رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان جماعتوں کا واحد ایجنڈا یہ رہا ہے کہ وہ شیخ محمد عبداللہ کے سیاسی نظریہ اور یہاں کی شناخت کو مسمار کریں ۔انہوں نے کہا کہ اگر آج کی نیشنل کانفرنس میں کوئی کمزوری ہو تو وہ تردید نہیں بلکہ تصیح کیلئے کام کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ بات طے ہے کہ نیشنل کانفرنس پہلے کی طرح ایک بار پھر پوری سیاسی قوت کے ساتھ ابھرے گی اورکہا کہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یہاں انفرادی حیثیت اور شناخت کو محفوظ نیشنل کانفرنس ہی کرسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کو اخلاقی اقدارکی پاسداری کرنے اور عوامی مفاد کے خاطر کوششیں کرنے کی طرف توجہ دینا ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سیاستدان اخلاقی حدود سے تجاوز کرکے دوسروں پر الزام تراشی کرتا ہے تو ان کو چاہئے کہ وہ پہلے اپنے گریباں میں جھانکنے کی کوشش کریں ۔










