ریڈونی کولگام میں فوج اور شدت پسندوں کے مابین تصادم آرائی

جھڑپ میں انتہائی مطلب لشکر کمانڈر سمیت 2’’دہشت گرد ہلاک کئے گئے ۔ آئی جی پی کشمیر

سرینگر///کولگام کے ریڈونی علاقے میں منگل کے روز ’’شدت پسندوں‘‘اورفوج کے مابین جھڑپ میں دو شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں ۔ گزشتہ رات علاقے میں تصادم شروع ہونے کے بعد آپریشن صبح تک ملتوی کیا گیا تھا ۔ادھر پولیس سربراہ کشمیر زون وی کے بردی نے کہا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے ریڈوانی پاین میں منگل کو لشکر طیبہ،ٹی آر ایف کے انتہائی مطلوب کمانڈر باسط ڈار سمیت دو عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیاجو متعدد کیسوں میں پولیس اور فوج کو مطلوب تھا ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع کے ریڈوانی پائین علاقے میں منگل کو ایک تصادم میں دو شدت پسند مارے گئے۔اس ضمن میں ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ علاقے میں ملیٹنٹوں کے چھپے رہنے کی ایک خبر ملتے ہی فوج ، پولیس اور فورسز نے مشترکہ طور پر علاقے کو محاصرے میں لیا اور گھر گھر تلاشی شروع کی گئی اور جونہی تلاشی پر مبنی ٹیم اس جگہ قریب پہنچی تو وہاں پر چھپے بیٹھے ملینٹٹوں نے فائرنگ شروع کی جس کے جواب میں فوج نے بھی گولی چلائی ۔ انہوںنے بتایا کہ اندھیرا ہونے کی وجہ سے آپریشن ملتوی کیا گیا تاہم مشکوک جگہ کی گھیرا بندی سخت کردی گئی تھی تاکہ ملینٹٹوں کو فرار ہونے کا موقع نہ ملے ۔ ساتھ ہی علاقے میں مزید فوج کو طلب کیا گیا ۔ انہوںنے بتایا ک صبح ہوتے ہی آپریشن بحال کیا گیا اور وہاں پر چھپے ملیٹنٹوں کو سرینڈر کرنے کو کہا گیا تاہم انہوںنے پولیس کی پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے فورسز پر گولیاں چلانے شروع کی جس کے بعد جوابی کاروائی کی گئی اور ابتدائی طور پر دو افراد کی لاشیں دیکھی گئی ۔ ادھر ذرائع نے بتایا کہ اس سے پہلے پیر کی شام پولیس اور فوج کی ایک مشترکہ ٹیم نے ریڈوانی پایین میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔جیسے ہی فورسز کی مشترکہ ٹیم مشتبہ مقام کے قریب پہنچی تو چھپے ہوئے عسکریت پسندوں نے فورسز پر فائرنگ کردی جس سے فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔آپریشن کو احتیاطی تدابیر کی وجہ سے رات کے لیے روک دیا گیا تھا اور آج صبح دوبارہ شروع کیا گیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی طور پر دو ملیٹنٹوں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ۔ دری اثناء ۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر وی کے بردی نے کہا کہ انتہائی مطلوب باسط ڈار دیگر عسکریت پسندوں کے ساتھ سیکورٹی فورسز کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔اعلیٰ افسر نے کہا کہ یہ فورسز کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے کیونکہ باسط ڈار خاص طور پر سری نگر میں کئی جنگجو حملوں کے پیچھے تھے۔باسط، ریڈوانی کے کولگام کا رہائشی، جو تین سال سے اپنے گھر سے لاپتہ تھا اور لشکر طیبہ کی ایک فرنٹ تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ (TRF) میں شامل ہوا۔این آئی اے نے ٹی آر ایف کے سربراہ باسط احمد ڈار کی گرفتاری کی تفصیلات کے لیے 10 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا تھا۔افسر نے مزید کہا کہ باسط شہری ہلاکتوں کے پیچھے بھی ماسٹر مائنڈ تھا۔