معطلی پر حکم امتنائی لاگو،مخالف فریق کو اعتراضات پیش کرنے کی آزادی
سرینگر// عدالت نے کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے سابق جنرل سیکریٹری بشیر کنگپوش کو راحت دیتے ہوئے تجارتی انجمن کے چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے عذرات داخل کرنے تک انکی فیڈریشن سے بے دخلی کے حکم نامہ کو زیر التواء رکھا ہے۔ کے ٹی ایم ایف کے سابق جنرل سیکریٹری بشیر احمد کونگپوش کو مارچ میں فیڈریشن کے الیکشن کمشنر نے اس انجمن سے بے دخل کیا تھا،جس کے بعد کنگپوش نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ہفتہ کو سکینڈ ایڈیشنل منصف کی عدالت میں اس کیس کی سماعت ہوئی جس میں جج موصوف نے ہدایت دیتے ہوئے کہا’’ جب تک دوسری جانب سے اعتراضات دائر نہیں کیے جاتے اور ان پر غور نہیں کیا جاتا، 27مارچ2024 کو چلینج شدہ بے دخلی کے مکتوب زیر نمبر24/CEC/KTM F/S کو التواء میں رکھا جاتا ہے، دوسری طرف اعتراضات دائر کرنے کی آزادی ہے،یا اگلی سماعت کی تاریخ تک اس آرڈر میں ترمیم کے لیے درخواست دیں سکتے ہیں‘‘۔ جج موصوف نے مدعی کے وکیل کو ہدایت دی کہ وہ اس حکم کی ایک کاپی تمام ضمیموں کے ساتھ مدعی اورمخالف طرف کو رجسٹرڈ ڈاک سہولیات سے پیش کریں۔ اس سے قبل بشیر احمد کنگپوش نے عدالت میں جو عرضی پیش کی تھی اس میں کہا گیا تھا کہ مدعی کشمیر ٹریڈرز اینڈ مینوفیکچررز فیڈریشن کا مستقل رکن ہے اور اس نے کئی بار الیکشن لڑا ہے اور آخر کار اسے فیڈریشن کا جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔عرضی میں مزید کہا گیا کہ فیڈریشن آئین کے تحت چلتی ہے جو نمبر 4848/S کے تحت رجسٹرڈ ہے اور وقتاً فوقتاً اس میں ترمیم کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی کمیٹی کی مدت ختم ہونے کے قریب پہنچی تو اس وقت کی تشکیل شدہ کمیٹی نے مدعا علیہ کو چیف، آئین کے صفحہ نمبر 43 اور اس شق نمبر الف سے شق میم تک کے اختیارات کے تحت الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا۔ عرض گزار نے کہا’’ موجودہ الیکشن کمشنر کو درخواست گزار سے ذاتی عداوت ہے اور موصوف اپنے حدود کے اختیارات سے تجاوز کرکے وہ فیڈریشن کے آئین کو ختم کرنے کے دھر پر ہے۔ عرضی میں کہا گیا کہ اس سلسلے میں مدعا علیہان نے بغیر کسی جواز کے مدعی اور دیگر ممبران کو الیکشن لڑنے سے روکنے کے لیے ان کے اور دیگر افراد کے انتخابی کاغذات کو بغیر کوئی وجہ بتائے بغیر کالعدم قرار دے دیا۔ عرضی میںاس کے بعد کہا گیا کہ مدعا علیہ نے بغیر کسی ر دائرہ اختیار کے مدعی(بشیر کنگپپوش) کو فیڈریشن کا الیکشن لڑنے سے روکنے کے لیے مدعی کے خلاف بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے جھوٹے،لغو الزامات کے ساتھ وجہ بتائونوٹس جاری کیلیکن پھر بھی مدعی نے اس نوٹس کا جواب دیا۔عرض گزار نے عدالت میں پیش کی گئی عرضی میں کہا کہ مدعا علیہ(الیکشن کمشنر) نے مدعی(بشیر کنگپوش) کے خلاف بے دخلی مکتوب نمبر 24/CEC/KTM F/S محررہ 27.مارچ.2024 جاری کیا جبکہ مدعا علیہ کے پاس فیڈریشن کے آئین کے مطابق فیڈریشن کیمستقل رکن کے خلاف ایسا مکتوب جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ عدالت نے عرضی کا احاطہ کرتے ہوئے کہا’’مدعی کی شکایت مختصراً یہ ہے کہ مدعا علیہ نے مدعی کے خلاف بے دخلی کا مکتوب جاری کیا ہے جو کہ فیڈریشن کے آئین کے خلاف ہے اور اس عدالت سے رجوع کرنے کی استدعا کی ہے۔‘‘ جج موصوف نے کہا کہ عدالت کا مؤقف ہے کہ اگر عدالت یک طرفہ حکم امتناعی جاری کرنے سے انکار کر دیتی ہے تو ل مقدمہ کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا اور مدعی کا مقدمہ بے نتیجہ ہو گا۔اس کیس کی آئندہ شنوائی4جون کو ہوگی۔










