ادب نے ملک میں تعلیمی روغ میں رول اداکیا اور تخلیقی تعلیم کو فروغ دیا
سرینگر///لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اتوار کے روز غازی پور میں کہا کہ ہندی ادب نے ملک میں تعلیمی فروغ میں رول اداکیا ہے اور ادب سماج میں ایک عکس کے طور پر کام کرتا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ ادب نے ملک کو ایک نئی جہت دی اور تعلیمی تخلیق کو فروغ دیا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے آج غازی پور میں شری کبیرناتھ رائے میموریل لیکچر سے خطاب کیا۔عظیم مضمون نگار، اسکالر اور شاعر شری کبیرناتھ رائے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے قوم کی تعمیر میں ان کی اہم شراکت کو یاد کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہاکہ کبرناتھ رائے نے ہندی ادب کو مالا مال کیا اور وہ فکری الہام کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ ان کے مضامین قارئین کو نئے خیالات اور تناظر دریافت کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔یادگاری تقریب میں، لیفٹیننٹ گورنر نے شری کبیرناتھ رائے کے نظریات اور اقدار کو یاد کیا اور کہا کہ وہ ہندوستانیت کی روح کی زندہ مثال ہیں جنہوں نے قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے ادب اور ثقافت کی لگن کے ساتھ خدمت کی۔کبر ناتھ رائے نے اپنے بڑے ادبی کاموں کے ذریعے قدیم نظریات اور اقدار کو فروغ دیا اور پرانے تصورات کو توڑ کر نئے خیالات کی حوصلہ افزائی کی۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اپنے کاموں میں، انہوں نے ملک کی ترقی کو نئی جہتیں دیں اور ترقی، امن اور ہم آہنگی میں لوگوں کے کردار پر زور دیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوششوں پر زور دیا کہ ان کی تخلیقات دوسرے خطوں کے قارئین کے لیے دستیاب ہوں اور اس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا جائے تاکہ قارئین کی ایک بڑی تعداد ان کے عظیم کاموں تک رسائی حاصل کر سکے۔










