bjp

بھاجپا نے وادی میں انتخابی میدان سے راہ فرار اختیار کی

عوامی نیشنل کانفرنس کاانڈئن الائنس کے حق میں انتخابی مہم شروع کرنے کا اعلان

سرینگر// عوامی نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے وادی میں انڈئن الائنس کے امیدواروں کے حق میں7مئی سے انتخابی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ بی جے پی وادی میں پہلے ہی میدان کھلی چھوڑ کر فرار ہوئی ہے تاہم انکے درپردہ امیدواروں کو الیکشن میں ووٹر سبق سکھائے گے۔ عوامی نیشنل کانفرنس کی صوبائی نظم کی نشست ہفتہ کو پارٹی سربراہ بیگم خالدہ شاہ کی ہدایت پر نائب صدر مظفر شاہ کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں پارٹی امورات کے علاوہ پارلیمانی انتخابات پر سنیئر لیڈروں کے درمیان تبادلہ خیال ہوا۔میٹنگ کے دوران تمام لیڈروں نے اپنے تاثرات پیش کئے۔ میٹنگ کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پارٹی کے سنیئر نائب صدر مظفر شاہ نے اعلان کیا کہ میٹنگ میں اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ عوامی نیشنل کانفرنس7مئی سے وادی میں انڈئن الائنس کے امیدواروں کے حق میں الیکشن مہم چلائے گی۔ انہوں نے کہا’’انتخابی مہم کا آغاز7مئی کو بارہمولہ پارلیمانی نشست میں انڈئن الائنس کے امیدوار کے حق میں عوامی جلسہ منعقد کرکے کیا جائے گا،جس کے بعد سرینگر نشست اور جنوبی کشمیر کی پارلیمانی نشست کیلئے بھی عوامی نیشنل کانفرنس انتخابی مہم چلائے گی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ان انتخابی مہموں میں نیشنل کانفرنس،کانگریس، سی پی آئی ایم اور جموں کشمیر پیپلز فرنت کے کارکنوں اور لیڈروں کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ شاہ نے کہا کہ انکی جماعت یہ کوشش کریں گی کہ وادی میں الائنس کے امیدوار کامیاب ہو۔ ان کا کہنا تھا’’ جموں میں بھی پہلے اسی طرح کی مہموں کا چلایا گیا ،اور جو رپورٹیں جموں سے موصول ہو رہی ہیں،ان کے مطابق جموں میں انڈئن الائنس اور کانگریس کے امیدوار کامیاب ہو رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے بھاجپا کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر چہ بی جے پی نے وادی میں پہلے ہی میدان کھلا چھورا ہے اور راہ فرار اختیار کی ہے،تاہم ان کے درپردہ امیدواروں کا حشر بھی انتخابات میں سامنے آئے گا اور انہیں رائے دہندگان مزہ چکھائے گے۔ مظفر شاہ کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ انتخابات بھاجپا اور انکی ہم خیال جماعتوں کو کرارا جوب دے گی اور5 اگست2019کے فیصلے کو یکسر مسترد کرے گی۔شاہ کا کہنا تھا کہ لوگوں نے11دسمبر2023کے عدالتی فیصلے کو بھی تسلیم نہیں کیا ہے۔ شاہ نے کہا کہ جموں کشمیر اس وقت خطرناک سیاسی،معاشی،انتظامی اور سماجی صورتحال سے گز رہا ہے اور اس صورتحال سے لوگوں کو باہر نکالنے کی ضرورت ہے۔