Use of new Austrian tunneling method in construction of Zojila Tunnel

زوجیلا ٹنل کی تعمیر میں نئی آسٹرئن ٹنلنگ طریقہ کارکا استعمال

10 کلو میٹر سڑک اور4پل مکمل، 2ثانوی سرنگوں پر 70فیصد اور اصل سرنگ پر نصف کام ختم

سرینگر///وادی اور لداخ کو ہمہ موسم جوڑنے والی زوجیلا ٹنل کی تعمیر میں جہاں پہلی مرتبہ جدید ٹیکنالوجی’’ نئی آسٹرئن ٹنلنگ طریقہ کار(این اے ٹی ایم) کا استعمال کیا جار ہا ہے وہی2سرنگوں پر قریب70فیصد جبکہ اصل سرنگ پر نصف کام مکمل ہوچکا ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق ایشیا کی سب سے طویل دو طرفہ زوجیلا ٹنل پر انجینئر کام میں مصروف ہیں۔سرینگر،لداخ شاہراہ پر زیر تعمیر اس ٹنل کو دسمبر2026میں مکمل ہونا تھا تاہم اس کی ڈیڈ لائن میں توسیع کرکے2030کردیا گیا۔ سطح سمندر سے11ہزار578فت کی اونچائی پر واقع اس ٹنل کی تعمیر کو ایک چلینجنگ پروجیکٹ مانا جا رہا ہے۔ زوجیلا ٹنل دو طرفہ شاہراہ ہے ،جس کی چوڑائی9,5میٹر اور اس کی اونچائی7.57میٹر ہے۔14.15کلو میٹروں پر مشتمل یہ سرنگ ایشیا کی سب سے طویل دو طرفہ ٹنل تصور کی جا رہی ہے۔ ٹنل کی تعمیر کیلئے جید ٹیکنالوجی کا استعمال عمل میں لایا جا رہا ہے اور ہندوستان میں پہلی بار کسی سرنگ کی تعمیر میں’نئی آسٹرئن ٹنلنگ طریقہ کار‘‘ کو استعمال میں لایا گیا۔گھوڑے کی نعل کی شکل کی یہ سرنگ تک پہنچنے کیلئے کئی پلوں اور سڑک کی تعمیر بھی کی گئی ہے۔انجینئروں نے بتایا کہ زوجیلا ٹنل پر قریب45فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ زوجیلا سرنگ کا6.5کلو میٹر حصہ تیار ہے جبکہ چھوٹی2ٹنلواں نلہ گراٹ یکم اور نلہ گراٹ دوم کی تعمیر70فیصد مکمل ہوچکی ہے اور اب صرف’ الیکٹروں میگنٹنگ فیٹنگ‘ ہی باقی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر ٹنل تک4پلوں کی تعمیر عمل میں لائی گئی ہے جن میں ایک چھوٹا اور باقی بڑے پل ہیں ،تاہم انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ میں کسی بھی فلائی آوار کو تعمیر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹنل تک پہنچنے کیلئے11کلو میٹر لمبی سڑک میں بھی10کلو میٹروں پر کام مکمل کیا جاچکا ہے۔انکا کہنا ہے کہ میگھا انجینئرنگ انفراسٹریکچر لمیٹیڈ ماحولیاتی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے س پراجیکٹ کو جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ انجام دے رہا ہے اور یورپی معیارات کے ساتھ ساتھ خودکار روشنی کی سہولت، ایمرجنسی لائٹنگ کی سہولت، امیسج سگنلنگ، ایمرجنسی ٹیلی فون اور ریڈیو کا استعمال عمل میں لایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا’یہ علاقہ شدید برفانی تودوں کی ذد میں رہتا ہے اور، سردیوں میں خراب موسم کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کی وجہ سے کام کو متعدد بار روکنا پڑا۔ سونہ مرگ سے منی مرگ تک یہ پروجیکٹ مجموعی طور پر31کلو میٹروں پر مشتمل ہے جس میں سونہ مرگ سے بالہ تک تک18اور بالہ تک سے منی مرگ تک13کلو میٹر ہے۔