1100 کروڈ روپے کی واگزار کے باوجود 400پروجیکٹ نامکمل
سرینگر///جموں کشمیر میںعوامی بہبود کے قریب400پروجیکٹ زائد از ایک ہزار کروڑ روپے صرف کرنے کے باوجود کافی عرصے سے نا مکمل ہے،جبکہ بر وقت ان پروجیکٹوں کی عدم تکمیل سے ان کا مقصد ہی فوت ہوچکا ہے۔ ان پروجیکٹوں میں سے 378ترقیاتی پروجیکٹ مختلف سرکاری محکموں نے 2019 اور2022کے درمیان مختلف اوقات پر ہاتھوں میں لیں اور گزشتہ ایک دہائی سے سرکاری خزانے پر انکا ایک ہزار کا بوجھ بھی پڑ گیا۔ سی اے جی نے بھی اپنے آخری آڈیٹ رپورٹ میں ان پروجیکٹوں کا ذکر کیا۔کمپٹیولر اینڈ آڈیٹر جنرل کا کہنا تھا’’397پروجیکٹوں کو ایک ہزار518کروڑ 66 لاکھ روپے کے اصل تخمینہ کے ساتھ4محکموں،آبپاشی و فلڈ کنٹرول جموں، جل شکتی کشمیر،جل شکتی جموں اور میکنکل انجینئرگ ڈیپارٹمنٹ کشمیر نے شروع کیا تھا،مگر وہ گزشتہ مالی سال کے آخر تک نا مکمل ہے‘‘۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ان پروجیکٹوں میں محکمہ پی ایچ ای(جل شکتی) کشمیر نے216 اور میکنکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ نے ایک جبکہ بپاشی و فلڈ کنٹرول جموں نے61اور پی ایچ ای جموں نے119پروجیکٹوں کو ہاتھ میں لیا تھا۔ ان پروجیکٹوں کو سال 2012-13سے2014-15 اور سال2017-18سے سال2021-22کے درمیان مکمل کرنا تھا تاہم وہ نا مکمل ہے‘‘۔کمپٹیولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے ان نا مکمل پروجیکٹوں کی وجہ سے مجموعی طور پر1095کروڑ52 لاکھ روپے کی رقم منجمند ہوکر رہ گئی ہے‘‘۔محکمانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک پروجیکٹ سال2012-13میں جبکہ2پروجیکٹ سال2013-14میں،9 پروجیکٹ سال2014-15میں اور2پروجیکٹ سال2017-18میں منظور ہوئے تھے۔انہوں نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ5پروجیکٹوں کو سال2018-19میں ہری جھنڈی دکھائی گئی جبکہ85پروجیکٹوں کو سال2019-20اور203پروجیکٹوں کو سال2020-21کے علاوہ سال2021-22میں90پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی۔ محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول محکمہ جموں نے سب سے زیادہ614.22کروڑ روپے جبکہ جل شکتی(محکمہ پی ایچ ای) جموں نے246کروڑ95لاکھ کے علاوہ محکمہ پی ایچ ای(جل شکتی) کشمیر نے233کروڑ65لاکھ اور میکنکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کشمیر نے70لاکھ روپے کی رقم کو صرف کیا ہے۔










