اننت ناگ راجوری نشست کے الیکشن کی تاریخوں میں ضرور تبدیلی آئی لیکن عوام کے و جذبے میں کوئی فرق نہیں

الیکشن تاریخ مؤخر کرنے سے بھاجپا اور اس کی پراکسیوں کی ہار کی تاریخ مؤخر نہیں ہوگی/عمر عبداللہ

سرینگر // اننت ناگ راجوری نشست کے الیکشن کی تاریخوں میں ضرور تبدیلی آئی ہے لیکن عوام کے جوش و جذبے میں کوئی فرق نہیں آیا ہے، بھاجپا اور اس کی پراکسیوں کو پہلے ہی پار نظر آگئی ہے لیکن تاریخوں کے مؤخر ہونے سے اُن کی ہار مؤخر نہیں ہوسکتی۔ 4جون کو جب الیکشن کے نتائج سامنے آئیں گے تو انشاء اللہ یہاں سے ہمارے اُمیدوار میاں الطاف احمد صاحب بھاری اکثریت سے جیت حاصل کریں گے۔سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے آج ڈورو اننت ناگ میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے مشترکہ بھاری ورکرس کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن کا انعقاد سینئر کانگریس لیڈر جی اے میر نے کیا تھا جبکہ اس موقعے پر پارٹی ٹریجرر شمی اوبرائے، سیاسی صلح کار مدثر شاہ میری، جنوبی زون صدر سید توقیر احمد، ضلع صدر اننت ناگ الطاف کلو اور دیگر لیڈران و عہدیداران بھی موجود تھے۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس نشست سے الیکشن ایک سازش کے تحت مؤخر ہوا، اگر موسم ہی وجہ ہوتی تو پھر آج تو دھوپ نکلی اور راستہ کھولنے میں انہیں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ حقیقت یہ ہے کہ بھاجپا اور اس کی پراکسیوں پہلے ہی خوفزدہ ہوگئیں ہیں، ان کی یہی کوشش ہے کہ کسی طرح سے یہاں ووٹنگ کی شرح کم ہوجائے۔ انہوں نے کہاکہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ ہمارے گوجر بکروال بھائی بھاری تعداد میں موسم کی بہتری کیساتھ اپنے مال مویشی لیکر پہاڑوں کے اوپر چلے جاتے ہیں اور ان کی یہی کوشش ہے کہ یہ گوجر بکروال بھائی ووٹنگ میں حصہ نہ لے سکیں۔ یہ سب کچھ بھاجپا اور اس کے ساتھیوں کو مدد پہنچانے کیلئے کیا گیا اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس نشست پر انڈیا الائنس اُمیدوار کیخلاف کھڑی ہوئی ہر ایک جماعت کے تار کسی نہ کسی طرح سے بھاجپا کیساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔عمر عبداللہ نے کہاکہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو اتحاد کرنے کی کوئی مجبوری نہیں تھی، دونوںجماعتیں ساری نشستوں پر اپنے اپنے اُمیدوار کھڑے کرسکتے تھے لیکن جس طاقت کیخلاف ہم لڑ رہے ہیں اُن کو شکست سے دوچار کرنے کیلئے اتحاد لازمی بن گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ساتھیوں کا الیکشن میں اُتارنے کا مقصد بھاجپا مخالف ووٹ تقسیم ہوجائے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ میرا ماننا ہے جس طرح سے انڈیا الیکشن کا مہم چلی، 4جون کو ادھمپور اور جموں نشسے سے کانگریس کے اُمیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہونگے ۔بھاجپا لیڈر شپ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’کب تک نفرت پھیلائوگے، کب نفرت کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرو گے، کب تک مذہب کا استعمال کرو گے، کب تک کہو گے کہ ہندو خطرے میں ہے اور ہندو کو بچانے کیلئے بی جے پی کو ووٹ دینا ہے،ہم سب عقلمند لوگ ہیں، پڑھے لکھے لوگ ہیں، ملک کے ہندئوں کی آبادی 80فیصد اور مسلمانوں کی آباد ی 14فیصد، بھلا 14فیصد سے 80فیصد کو کون سا خطرہ لاحق ہے اور یہ خطرہ الیکشن میں ہی میں کیوں نظر آتا ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ ایک سوچے سمجھے پروگرام کے تحت نفرت پھیلائی جارہی ہے ، کہا جارہاہے کہ اگر بی جے پی نہیں جیتی تو منگل سوتر اور زمینیں خطرے میں ہونگی۔پورے ملک میں ایک مثال دیجئے جہاں مسلمانوں نے کسی اور سے حق مانگا ہو۔ اُن کا کہنا تھا کہ انڈیا الائنس کی پالیسی ہے کہ جتنی آبادی اُتنا حق ہے، مسلمانوں کی آبادی 14فیصد ہے لیکن بھاجپا کو حکومت میں ہماری آبادی سے ایک بھی وزیر یا ایم پی نہیں ملا۔ کیا مسلمانوں کی آباد میں بھاجپا کو ایک بھی قابل آدمی نہیں ملا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ اسی ناانصافی کیلئے 28جماعتوں نے اتحاد کرکے انڈیا الائنس کیونکہ ہم سب نے یہ محسوس کیا کہ اب تبدیلی ضروری ہے اور انشاء اللہ تبدیلی کا وقت آگیا ہے۔