جموں کشمیر کے سڑکوں پر موت کا خونین رقص جاری ، انسانی جانوں کے زیاں میں اضافہ

گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 3اہم شاہرائوں پر سڑک حادثات کے دوران 2ہزار سے زائد جانیں تلف

سرینگر // جموں کشمیر کے سڑکوں پر موت کا خونین رقص جاری ہے اور گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 3اہم شاہرائوں پر سڑک حادثات کے دوران 2ہزار سے زائد جانیں تلف ہوئی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر کی سڑکوں پر موت کا خونین رقص جاری ہے اورا ٓئے روز سڑک حادثات کے دوران انسانی جانوں کا زیاں جاری ہے ۔ جس کے چلتے جموں و کشمیر میں، تین اہم سڑکوں نے گزشتہ پانچ سالوں میں تقریباً 2000 لوگوں کی جان لی ہے۔سرینگر جموں شاہراہ اور وادی چناب اور پیر پنجال کی حدود میں جانے والی سڑکوں پر سال2019 سے 2023 تک سڑک حادثات میں کم از کم 1986 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چناب وادی میں سال 2019 میں کم از کم 113 افراد حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اعداد و شمار کے مطابق سال 2020 میں خطے میں سڑک کے حادثات میں 64 افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد 2021 میں 91 اموات ہوئیں، 2022 میں کم از کم 81 اور 2023 میں 114 افراد ہلاک ہوئے۔سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ قومی شاہراہ پر سال 2019 میں سڑک کے حادثات میں کم از کم 211 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد سال 2020 میں 178، سال 2021 میں کم از کم 271،سال 2022 میں 261 اورسال 2023 میں 234 افراد ہلاک ہوئے۔اسی طرح پیر پنجال رینج سے سال 2019 میں کم از کم 109 افراد سڑک حادثات میں ہلاک ہوئے سال 2020 میں کم از کم 56، 2021 میں 65، 2022 میں 74 اور 2023 میں 64 افراد ہلاک ہوئے۔اسی طرح سے اعداد و شمار کے مطابق وادی چناب اور پیر پنجال کی سڑکوں پر سال 2019 میں سڑک حادثات میں کل 433 افراد جاں بحق ہوئے۔اسی طرح 2020 میں ان علاقوں میں سڑک حادثات میں کم از کم 298 افراد ہلاک ہوئے۔سرکاری اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ 2021 میں کم از کم 427 افراد سڑک حادثات میں ہلاک ہوئے، اس کے بعد 2022 میں 416 اور 2023 میں 412 افراد ہلاک ہوئے۔حکومتی رپورٹ کے مطابق بھارت میں سڑک حادثات میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے اور فی گھنٹہ کم از کم 19 جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔