بانڈی پورہ//ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ ڈاکٹر اویس احمد نے آج’ بیک ٹو وِلیج پروگرام کے پانچویں مرحلے کے آغاز کے سلسلے میںمتعدد پنچایتوں کا ایک تفصیلی دورہ کیا اور گاؤں کی پنچایتوں میں جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ کے ہمراہ اے ڈی ڈی سی بانڈی پورہ محمد اشرف حکاک کے علاوہ مختلف محکموں کے افسران اورملازمین بھی موجود تھے۔ڈاکٹر اویس احمد نے کئی پنچایتوں کا دورہ کیاجن میں چیک ارسلہ (سی اے) خان، گنڈ پورہ، اور گروڑہ کے پنچایت حلقے شامل ہیں۔انہوں نے سب سے پہلے سی اے خان کی پنچایتوں کا دورہ کیا اور اُنہوں نے وہاں بیک ٹو وِلیج کے پانچویں مرحلے کے پروگرام کے اِنتظامات کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے دورہ کرنے والے افسروں اور عوام سے بات چیت کی ۔ اُنہوں نے افسران کے ہمراہ ترقیاتی کاموں کے مقامات کا دورہ کیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے یہاں طلبأسے بات چیت بھی کی۔اِس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر کے ہمراہ ڈی ڈی سی آرین غلام محی الدین کے علاوہ بی ڈی سی آرین، پی آر آئیز اور متعلقہ بی ڈی او بھی موجود تھے۔بعد میں ضلع ترقیاتی کمشنر نے گنڈ پورہ اور گروڑہ کی پنچایتوں کا دورہ کیا جہاں اُنہوں نے دورہ کرنے والے افسران، پی آر آئیز اور عام لوگوں سے بات چیت کی۔ اِس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر نے مڈل سکول گروڑہ کا معائینہ کیا اور بچوں کو دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے جاری بیک ٹو وِلیج کے پانچویں مرحلے کے پروگرام کے بارے میں کہا کہ تمام شراکت داروں ترقیاتی سرگرمیوں اور سرکاری سکیموں کی عمل آوری کے بارے میں اَپنی رائے دے سکتے ہیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے کہا کہ دورہ کرنے والے افسران کو بیک ٹو وِلیج پانچویں مرحلے کے پہلے مرحلے کے تحت 50 پنچایتوں میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ لوگوں کی طرف سے اُٹھائے جانے والے حقیقی مسائل کو شفاف طریقے سے اُٹھا سکیں تاکہ مؤثر حل اور مختلف سرکاری سکیموں کے علاوہ فلاحی اقدامات کی عمل آوری کا جائزہ لیا جاسکے۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور پروگرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔ اُنہوں نے نوجوانوں کی شمولیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ترقی کے عمل میں نوجوانوں کا اہم کردار ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یوتھ کلبوں کو چاہیے کہ وہ جاری بیک ٹو وِلیج کے پانچویں مرحلے کے پروگرام میں نوجوانوں پر مرکوز مسائل کو اُجاگر کریں۔اُنہوں نے سرپنچوں اور پنچوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پی آر آئیز کو اپنی پنچایتوں کو کوڑاکرکٹ سے پاک اور صاف رکھنے کے لئے آگے بڑھ کر قیادت کرنی چاہئے اور ان کے جائز مطالبات کو مناسب طریقے سے پیش کرنے کے لئے باقاعدگی سے گرام سبھا کا اِنعقاد کرنا چاہیئے۔










