Dilbag-Singh-

جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے منطقی انجام تک پہنچ رہی ہے: ڈی جی پی دلباغ سنگھ

پچھلے کچھ برسوں سے کشمیر کی صورتحال میں تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے اور جموں و کشمیر امن اور ترقی کی راہ پر گامزن

سری نگر//جموں و کشمیر کے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے سنیچر کے روز کہا کہ پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو تقریباً اس کے منطقی انجام تک پہنچا دیا ہے جبکہ یو ٹی میں امن کو ایک مستقل خصوصیت بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ دراندازی پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے اور مقامی نوجوانوں کی عسکریت پسند صفوں میں بھرتی میں کمی آئی ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق کہ سرینگر کے زیون میں آرمڈ پولیس ہیڈکوارٹر پر یوم پولیس یادگاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر گزشتہ تین دہائیوں سے دہشت گردی کی لعنت سے متاثر ہے جبکہ انہوں نے کہا کہ “جموں و کشمیر کی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے خلاف جنگ اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہی ہے”۔ ڈی جی پی نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں موجودہ امن کو ایک مستقل خصوصیت کے طور پر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ امن کو درہم برہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم پولیس اس طرح کی تمام حربوں کو ناکام بنانے کے لیے سخت محنت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں میں افسران سمیت آٹھ پولیس اہلکار مارے گئے جبکہ فوج اور دیگر فورسز کے کچھ افسران نے بھی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا یے۔ ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا کہ پچھلے کچھ سالوں سے کشمیر کی صورتحال میں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے اور جموں و کشمیر امن اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ کے این ایس کے مطابق کہ جموں و کشمیر کے پولیس سربراہ نے شہید ہونے والے ہیروز کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب تک 1606 پولیس اہلکار ڈیوٹی کے دوران شہید ہوئے ہیں اور آج ہم اپنے شہداء￿ کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جبکہ جموں و کشمیر کی پوری قوم ان کی قربانیوں کی بہت زیادہ مقروض ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری پولیس فورس شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ دریں اثناء جموں و کشمیر پولیس نے خون کے عطیہ کیمپ کا بھی انعقاد کیا تھا جس میں 200 پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا اور خون کا عطیہ دیا۔انہوںنے کہا ملی ٹنسی کی صفوں میں مقامی نوجوانوں کی بھرتی میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ گزشتہ سال 110نوجوانوں نے عسکریت پسندی میں شمولیت اختیار کی تھی، اس سال، اب تک صرف 10نے شمولیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 10 میں سے چھ ہلاک ہو چکے ہیں۔”ہم باقی چاروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔ ان کی واپسی کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔ ہم آپ کی جان نہیں لینا چاہتے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ امن کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت آ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز سرحد اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ دراندازی کو بڑے پیمانے پر کنٹرول کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔