منی سیکٹریٹ بھدرواہ کی عمارت کے کام کو بحال کرنے کی سرکار سے کی اپیل
سرینگر //جموں کشمیر کا خوبصورت ضلع بھدرواہ میں سرکاری کا م سست روی کے شکار اطلاعات کے مطابق قریبا ًسات سے آٹھ سال قبل جموں کشمیر سرکار نے عوام کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے عوامی سہولیات کے لیے منی سیکٹریٹ کی بلڈنگ سابقہ تحصیل آفس کو تحلیل کر کے وہاں پر منی سیکٹریٹ بنانے کا فیصلہ لیا تھا جس کو بھدرواہ کی عوام نے کافی سراہا تھا جس کو دیکھتے ہوئے وہاں پر تحصیل آفس و تحصیل خزانہ آفس اور ایس ڈی ایم کی رہائش گاہ کو منہدم کرکے وہاں پر منی سیکٹرٹ کی بلڈنگ بنانے کا پلان تیار کیا اوراس کیلئے ٹنڈر بھی نکالے گئے اورباضابطہ طور کام بھی شروع کیا گیا تھالیکن بلڈنگ کاتعمیراتی کا اچانک نامعلوم وجوہات کی بناء تعمیراتی ایجنسی نے کا بند کردیا ۔اس ضمن میں مقامی دوکاندار شیخ مشتاقنے کشمیر پریس سروس کے موصولہ اطلاعات کے مطابق مقامی لوگوں نے تعمیراتی کام کو روکنے پر خاموش احتجاج درج کیا ۔اس دوران نمائندہ ایک دکاندار شیخ مشتاق نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تعمیراتی کام کو روکنے کے وجوہات جاننے سے بھی قاصر ہیں ان کا سوال تھا کہ کن وجوہات کی بنا پر بلڈنگ کا کام بند کردیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ بلڈنگکاکام ادھورا رہنے سے ان کا کاروبار بھی متاثر ہوا ہے جس وجہ سے وہ بنک کے قرض دار ہوتے جارہے ہیں یہی حال دوسرے دوکانداروں کا بھی اس وقت تقریبا ًدو درجن کے قریب دوکاندار اسی اس میں ہیں کہ کب یہاں منی سیکٹریٹ کی عمارت تیار ہو اور ان کاروبار بھی چل پڑے .ان تمام دوکانداروں نے ایل جی منوج سنہا سے اپیل کی ہے اور امید ظاہر کی کہ وہ اس ضمن میں ضرور دیکھیں اور بھدرواہ منی سیکٹریٹ کی عمارت کا روکا پڑا کام پھر سے شروع کریںتاکہ دکانداروں کا کاروبار متاثر ہونے سے بچ جائے اور لوگوں کے مشکلات کاازالہ ہوسکے ۔










