حکام کی طویل المدتی عدم توجہی ،ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ توجہ دیں تو شاید بات بن جائے :زیرتعلیم طلباء
بانڈی پورہ//شمالی کشمیرکے بانڈی پورہ ضلع کے باتھی پورہ نائدکھائی علاقے میں واقع گورنمنٹ مڈل اسکول کے طلباء اسکول میں بنیادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے بری طرح سے مشکلات کا شکار ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ مڈل اسکول باتھی پورہ فوری توجہ کامنتظر ہے کیونکہ اسکول خستہ حالی کا شکار ہے جبکہ حکام اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔مقامی لوگوں نے اسکول گراؤنڈ کے مکمل طور پر پانی میں ڈوب جانے کے خدشات کا اظہار کیا جس کی وجہ سے طلباء اور اساتذہ کو کافی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا ہے۔انہوںنے کہاکہ طلبہ اور اساتذہ طویل عرصے سے اسکول کے احاطے میں پانی جمع ہونے کی اس اذیت کو برداشت کر رہے ہیں۔طلباء کا کہنا تھا کہ اسکول کے احاطے میں داخل ہوتے وقت اُنہیں ایسا لگتا ہے جیسے کوئی دریا عبور کرنا پڑے۔طلبہ کے بقول ہمیں احاطے میں داخل ہونے کیلئے پلاسٹک کے لمبے جوتے پہننے پڑتے ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ طالب علموں کی وردیاں بے ترتیب ہو جاتی ہیں کیونکہ انہیں ان پتھروں پر قدم رکھنا پڑتا ہے، جنہیں ہم نے سکول کے احاطے میں پانی کے اس تالاب میں چلنے کیلئے ڈال رکھا ہے۔انہوں نے کہاکہ کئی بار، طلباء اسے عبور کرتے ہوئے خود کو زخمی کر چکے ہیں۔طلباء کے ایک گروپ نے کہاکہ کوئی فٹ پاتھ نہیں ہے اور ہمیں تعلیم حاصل کرنے کیلئے کیچڑ اور پانی سے گزرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے اکثر طلبہ کو گھر ہی رہنا پڑتا ہے۔ایک مقامی رہائشی غلام دین لون نے کہا کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں کامیابیوں کو ظاہر کرنے پر زیادہ توجہ دیتی ہے لیکن زمینی سطح پر بہت کم ترقی نظر آتی ہے۔انہوںنے بتایاکہ اگرچہ سٹاف ممبران داخلہ لینے والے طلباء کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن موجودہ حالات کی وجہ سے بنیادی سہولیات کی کمی نے انہیں تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ اسکول میں ایک اور ڈھانچہ تعمیر کیا گیا تھا۔ لیکن 2014 میں شدید آندھی نے ڈھانچے کی چھت کو نقصان پہنچایا اور اب تک چھت کی مرمت کے لیے کوئی کوشش نہیں کی گئی۔مقامی لوگوںنے بتایاکہ گورنمنٹ مڈل اسکول باتھی پورہ نائدکھائی میں تمام بنیادی سہولیات جیسے بجلی کی فراہمی، کھیل کا میدان، اسکول کے احاطے کی باڑ وغیرہ کا فقدان ہے، بارش کے موسم میں اسکول میں پانی جمع ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے طلباء اور اساتذہ کو آنے جانے اور باہر جانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور آلودہ پانی سے آنے والی بدبو کے باعث طلباء کو صحت کے خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔طلباء نے کہاکہ ہم سکول جاتے ہوئے ناک ڈھانپنے پر مجبور ہیں کیونکہ اس کچرے سے آنے والی بدبو ناقابل برداشت ہے۔ اس سے سانس لینے میں تکلیف ہو رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ ایسا لگتا ہے کہ ضلع انتظامیہ بانڈی پورہ اور ڈائریکٹر ایجوکیشن نے مذکورہ اسکول کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔اسکول ملازمین نے شکایت کی کہ ہم مسلسل متعلقہ حکام کو آگاہ کرتے رہے ہیں کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں اور سکول کے احاطے میں مٹی بھرنے اور باڑ لگانے کا کام شروع کریں لیکن آج تک کچھ نہیں ہوا۔انہوںنے کہاکہ ہم حکومت سے اس مسئلے کو حل کرنے کی درخواست کرتے ہیں تاکہ یہ تعلیمی ادارہ آسانی سے چل سکے۔اسبارے میں زونل ایجوکیشن آفیسر حاجن عبدالرحیم لون نے کہا کہ وہ حال ہی میں زیڈ ای ائو حاجن کے طور پر شامل ہوئے ہیں اور فوری طور پر مسائل کے ازالے کے لیے دفتری عملے سے تمام تفصیلات جمع کریں گے۔ مقامی لوگوں اور طلباء نے ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ اور چیف ایجوکیشن آفیسر بانڈی پورہ سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور اس مسئلہ کو جلد از جلد حل کریں تاکہ طلباء کو مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔










