ملکوں کی خود مختاری کا احترام کرنا ضروری ، وزیر اعظم کا جی سربراہی کانفرنس سے خطاب
سرینگر //ہیروشیمامیں منعقدہ G7اجلاس میں وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور ملکوں کی خودمختاری اور اقوام عالم کی سلامتی کا احترام کرنا چاہئے ۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام مسائل کا حل بات چیت اور سفارتکاری میں ہی مضمر ہے ۔ سی این آئی کے مطابق یوکرین کی موجودہ صورتحال انسانیت اور انسانی اقدار کا مسئلہ ہے نہ کہ سیاست یا معیشت کے بارے میں، وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی تنازع کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔ہیروشیما میں جی 7 اجلاس سے خطاب میں مودی نے کہا کہ تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور خودمختاری اور تمام اقوام کی علاقائی سالمیت کا احترام کرنا چاہیے اور جمود کو تبدیل کرنے کی یکطرفہ کوششوں کے خلاف مل کر آواز اٹھانے پر زور دیا۔وزیر اعظم کے تبصرے مشرقی لداخ میں چین کے ساتھ دیرپا سرحدی تنازع اور یوکرین پر روس کے حملے کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔مودی نے مہاتما بدھ کے بارے میں کہا کہ جدید دور میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے جس کا حل ان کی تعلیمات میں نہیں مل سکتا۔اپنے ریمارکس میں مودی نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ اپنی بات چیت کا بھی حوالہ دیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ حالات کو سیاست یا معیشت کا مسئلہ نہیں سمجھتا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ انسانیت کا مسئلہ ہے، انسانی اقدار کا مسئلہ ہے،‘‘ وزیراعظم نے کہاکہ’ہم شروع سے کہتے آئے ہیں کہ بات چیت اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔ اور اس صورت حال کو حل کرنے کے لیے، ہم ہر ممکن کوشش کریں گے، جو کچھ بھارت سے ہو سکتا ہے،‘‘مودی نے کہا کہ ہندوستان کی ہمیشہ یہ رائے رہی ہے کہ کسی بھی کشیدگی اور کسی بھی تنازع کو بات چیت کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں خوراک، ایندھن اور کھاد کے بحران کے سب سے زیادہ اور گہرے اثرات ترقی پذیر ممالک محسوس کر رہے ہیں۔”عالمی امن، استحکام اور خوشحالی ہم سب کا مشترکہ مقصد ہے۔ آج کی باہم جڑی ہوئی دنیا میں، کسی ایک خطے میں کشیدگی تمام ممالک کو متاثر کرتی ہے۔ اور، ترقی پذیر ممالک، جن کے پاس محدود وسائل ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال کی وجہ سے خوراک، ایندھن اور کھاد کے بحران کے سب سے زیادہ اور گہرے اثرات ان ممالک کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔










