’جیل ایک بہترین تربیت گاہ ‘کے قول پرعمل درآمد

61تعلیم بالغان کے تحت تعلیم حاصل کریں گے،مقصد قیدیوں کی خودانحصاری:حکام

سری نگر//’جیل ایک بہترین تربیت گاہ ‘کے قول پرعمل کرتے ہوئے بھدرواہ کی ایک جیل میں قیدیوںکو کمپیوٹر کی تربیت فراہم کی جارہی ہے ،تاکہ رہاہونے کے بعد یہ قیدی کمپیوٹر کورس کی بنیاد پر خودانحصار بن سکیں ۔جے کے این ایس کے مطابق جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ کے علاقہ بھدرواہ میں ایک جیل کے قیدی حکام سے کمپیوٹر کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔اُنھیں اُمیدہے کہ یہ کورس انہیں خود انحصار بننے میں مدد دے گا۔حکام نے بتایا کہ کل 85 قیدیوں میں سے 24، جو پہلے بیچ کا حصہ ہیں، کمپیوٹر کی تربیت حاصل کر رہے ہیں، جب کہ بقیہ 61تعلیم بالغان کے تحت تعلیم حاصل کریں گے۔بھدرواہ ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ مشتاق ملہ نے کہاکہ قیدیوں کو کمپیوٹر کی تعلیم میں ماہر بنانے کیلئے ہم نے ان کیلئے جیل میں کمپیوٹر کلاسز شروع کئے ہیں۔ ڈسٹرکٹ جیل بھدرواہ میں اس وقت185 قیدی ہیں۔اس غیرمعمولی پروگرام کا افتتاح ڈوڈہ کے ضلع مجسٹریٹ ویش پال مہاجن نے کیا۔عہدیداروں نے کہا کہ بھدرواہ کیمپس اور ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز کے اشتراک سے اس پہل کا مقصد قیدیوں کو ڈیجیٹل علم اور بنیادی تعلیم فراہم کرنا ہے، تاکہ قیدی مستقبل میں خود انحصاری بن سکیں۔جموں یونیورسٹی کے بھدرواہ کیمپس کی مدد سے، 24 تعلیم یافتہ مجرم (قیدی)پہلے بیچ میں ڈیجیٹل تعلیم حاصل کریں گے، جبکہ 61 قیدیوں کو ٹاٹا کنسلٹنسی کے بالغ تعلیم پروگرام کے تحت اندراج کیا گیا ہے۔جیل سپرنٹنڈنٹ نے مزید کہاکہ اس پہل کو بیچ اور دیگر قیدیوں کی طرف سے مثبت جواب ملا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دیگر قیدیوں میں ڈیجیٹل مہارتیں سیکھنے کیلئے جوش و خروش نے حکام کو اس اقدام کو بڑھانے اور قیدیوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈالنے کے لیے مزید تحریک دی ہے۔ ایچ او ڈی کمپیوٹر سائنس بھدرواہ کیمپس ڈاکٹر جتندر منہاس نے کہاکہ قیدیوں کیلئے یہ کورس6 ماہ تک چلے گا۔انہوںنے کہاکہ درکار انفراسٹرکچر کے علاوہ، بھدرواہ کیمپس کے کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کے اساتذہ اور اسکالرز قیدیوں کو کمپیوٹر کی مہارتیں سکھائیں گے۔ڈاکٹر منہاس کامانناہے کہ وہ قیدیوں کو علم فراہم کر رہے ہیں اور جیل سے رہائی کے بعد ایک بہتر راستہ نکالنے میں ان کی مدد کر رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنرڈوڈہ وشیش پال مہاجن نے کہا کہ اس کا مقصد قیدیوں کو کمپیوٹر کی مہارتوں میں ماہر بنانا ہے تاکہ وہ جیل کے بعد روزگار کے لائق بن سکیں اور ایک بہتر مستقبل میں قدم رکھ سکیں۔ڈی سی نے مزید کہاکہ اس طرح کے پروگراموں کا مقصد قیدیوں کو خود کو برقرار رکھنے کی مہارت اور قیمتی معلومات سکھانا ہے، جیسے کہ انٹرنیٹ براؤز کرنا یا ڈیجیٹل ادائیگی کیسے کی جائے۔ اس طرح، تعلیم ناخواندگی اور جرائم کی لعنت کے خلاف ہتھیار بن جاتی ہے۔قابل ذکر ہے کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے2019 کے جیل کے اعدادوشمار کے مطابق، ہندوستان میں 4,78,600 مجرموں(قیدیوں) میں سے41.6 فیصد کی خواندگی کی سطح 10ویں جماعت سے کم تھی، اور27.7 فیصد ناخواندہ تھے۔