اورجموں و کشمیر میں دیگر تعلیمی اِداروں کی رہنمائی کریں گے
سری نگر//جموں و کشمیر میں تقریباً 435 ایس ایچ آر آئی سکول ( پردھان منتری سکولز فار رائزنگ اِنڈیا ) قومی تعلیمی پالیسی۔ 2020 کے مختلف مدوں کی عکاسی کریں گے اور جموںوکشمیر میں دیگر تعلیمی اِداروں کی رہنمائیں کریں گے۔ یہ سکول ایک مثالی سکول کے طور پر کام کریں گے جس میں اپ گریڈ شدہ بنیادی ڈھانچہ ، اختراعی تعلیم اور ٹیکنالوجی موجود ہے ۔یہ بات قابل ذِکر ہے کہ پی ایم ایس ایچ آر آئی سکولز ایک نئی سکیم ہے جس میں مقامی اداروں کے علاوہ یونین ، ریاست اور یو ٹی حکومتوں کے زیر انتظام منتخب موجودہ سکولوں کو مضبوط کر کے ملک بھر میں 14,500 سے زیادہ سکولوں کی ترقی کا تصور کیا گیا ہے ۔ یہ سکول اپنے اپنے علاقوں میں دیگر سکولوں کو رہنمائی فراہم کر یں گے ۔ پی ایم ایس ایچ آر آئی سکول طلباء کی علمی نشو و نما کیلئے معیاری تعلیم فراہم کریں گے اور 21ویں صدی کی کلیدی مہارتوں سے آراستہ جامع اور بہترین افراد کی تخلیق اور پرورش کی کوشش کریں گے ۔ پی ایم ایس ایچ آر آئی سکولز کی اس اہم سکیم کو مرکزی معاونت والی سکیم کے طور پرعملاناہے جس کی کُل پروجیکٹ لاگت 27,360کروڑ روپے ہے جس میں سال 2022-23ء سے 2026-27ء تک پانچ برس کی مدت کیلئے 18,128 کروڑ روپے مرکزی حصہ شامل ہے۔ پی ایم ایس ایچ آر آئی سکولز کو گرین سکولوں کے طور پر تیار کیا جائے گا جس میں ماحول دوست پہلو جیسے شمسی پینل اور ایل ای ڈی لائٹس ، قدرتی کھیتی سے غذائیت کے باغات ، فضلہ کا انتظام ، پلاسٹک سے پاک ، پانی کی بچت اور کٹائی ، ماحولیات ، آب و ہوا کے تحفظ سے متعلق روایات اورعمل کا مطالعہ شامل ہیں ۔ نیز اِن سکولوں میں اختیار کی جانے والی تعلیم زیادہ تجرباتی ، جامع ، مربوط ، کھیل اورکھلونے پر مبنی ، انکوائیری پر مبنی ، دریافت پر مبنی ، سیکھنے والے پر مبنی ، بحث پر مبنی اور لطف اندوز ہو گی ۔ ہر جماعت میں ہر بچے کے سیکھنے کے نتائج پر توجہ دی جائے گی ۔ تمام سطحوں پر تشخیص تصوراتی تفہیم اور حقیقی زندگی کے حالات میں علم کے اطلاق اور قابلیت پر مبنی ہو گی ۔ دستیاب وسائل اور ان کی تاثیر کا اندازہ ہر ایک ڈومین کیلئے دستیابی ، مناسبت اور استعمال کے لحاظ سے کیا جائے گا اور ان کی کارکردگی کے کلیدی اشارے کئے جائیں گے اور خلاء کو منظم اور منصوبہ بند طریقے سے پُر کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ سکیم سے روز گار کی صلاحیت کو بڑھانے اور روز گار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کیلئے سیکٹر سکل کونسلز اور مقامی صنعت سے روابط تلاش کئے جائیں گے ۔ ایک سکول کوالٹی اسسمنٹ فریم ورک ( ایس کیو اے ایف ) تیار کیا گیا ہے جس میں نتائج کی پیمائش کیلئے کارکردگی کے کلیدی اشاریوں کی وضاحت کی گئی ہے ۔ مطلوبہ معیارات کو یقینی بنانے کیلئے ان سکولوں کے معیار کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا ۔ سکیم کی اہم اقدامات آر ٹی ای ایکٹ کے تحت مستفید ہونے والے حقداروں کے علاوہ معیار اور اختراع( سیکھنے میں اضافہ پروگرام ، ہولیسٹک پروگریس کارڈ ، اختراعی پیڈاگوجیز ، بیک لیس ڈے ، مقامی کاریگروں کے ساتھ انٹرن شپ ، صلاحیت سازی وغیرہ ) ہیں ۔ اس کے علاوہ پی ایم ایس ایچ آر آئی سکولزمیں سے صد فیصد سائنس اور ریاضی کٹس حاصل کریں گے ۔ یہ سکیم طلباء کو پیش کئے جانے والے مضامین کے انتخاب میں لچک پیدا کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کرے گی اور زبان کی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد کیلئے تکنیکی اِنٹرونشونوں کا استعمال کرتے ہوئے ذریعہ تعلیم کے طور پر مادری زبان اورمقامی زبانوں کی حوصلہ افزائی کرے گی ۔ اسی طرح پی ایم ایس ایچ آر آئی سکولز کے صد فیصد کو آئی سی ٹی ، سمارٹ کلاس رومز اور ڈیجیٹل اقدامات کے تحت لایا جائے گا ۔ موجودہ بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے حوالے سے یہ سکیم پیشہ وارانہ مداخلتوں میں مدد کرے گی بالخصوص مقامی صنعت سے انٹرن شپ اورانٹر پرنیور شپ کے مواقع کو بڑھانے کے علاوہ ترقیاتی منصوبوں اورقریبی صنعت سے مہارتوں کی نقشہ سازی اور اس کے مطابق کورسوں اور نصاب تیار کرے گی ۔ نیز پی ایم ایس ایچ آر آئی سکولز کا انتخاب چیلنج موڈ کے ذریعے کیا جا رہا ہے جہاں سکولوں میں مثالی سکول بننے کیلئے تعاون کیلئے مقابلہ ہوتا ہے ۔ سکولوں کو آن لائن پورٹل پر خود اپلائی کرنے کی ضرورت ہو گی جو اس سکیم کے پہلے دو برسوں کیلئے سال میں چار بار ہر سہ ماہی میں ایک بار کھولا جائے گا ۔










