ہماری مسلح افواج اپنا کام غیر معمولی طور پر اچھی طرح کرتی ہیں:راہول گاندھی
جموں //کانگریس کے سابق صدراور رُکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے منگل کو پارٹی کے سینئر لیڈر ڈگ وجئے سنگھ کے 2019میں ہونے والے سرجیکل اسٹرائیک کی صداقت پر تبصرہ سے خود کو الگ کیا اور کہا کہ فوج کو کوئی ثبوت فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ دگ وجے سنگھ کے کہنے کے بعد سامنے آیا ہے کہ پاکستان کے خلاف 2019 کی سرجیکل اسٹرائیک کا کوئی ثبوت نہیں ہے، جبکہ مرکز کا دعویٰ ہے کہ اس نے حملہ کیا ہے۔ دگ وجے سنگھ کے ریمارکس سے اختلاف کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ یہ سنگھ کے ذاتی خیالات ہیں۔راہول گاندھی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہاکہ ہم ڈگ وجے سنگھ کے ذاتی خیالات کی تعریف نہیں کرتے۔ اس کے خیالات باہر کے خیالات ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم بالکل واضح ہیں کہ مسلح افواج اپنا کام غیر معمولی طور پر اچھی طرح کرتی ہیں اور اُنہیں اس کا ثبوت فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔راہول گاندھی نے کشمیری پنڈتوں کے ایک وفد سے اپنی ملاقات کے بارے میں بھی بات کی، جنہوں نے شکایت کی ہے کہ اُنہیں سیاسی فائدے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔راہول گاندھی کاکہناتھاکہ میں نے کل کشمیری پنڈتوں کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ انہوں نے اظہار خیال کیا کہ اُنہیں لگتا ہے کہ ان کی بے عزتی کی جا رہی ہے اور سیاسی فائدے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مجھ سے اپنے مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھانے کی درخواست کی۔بی بی سی کی ممنوعہ دستاویزی فلم کے بارے میں پوچھے جانے پرراہول گاندھی کا کہنا تھا کہ سچ ہمیشہ سامنے آتا ہے اور کوئی بھی پابندی سچ کو سامنے آنے سے نہیں دبا سکتی۔انہوںنے کہاکہ سچ ہمیشہ سامنے آتا ہے۔ پریس پر پابندی لگانے اور لوگوں کیخلاف ای ڈی اور سی بی آئی جیسے اداروں کا استعمال سچائی کو سامنے آنے سے نہیں دبا سکتا۔اس سے پہلے یاترا کے دوران جے رام رمیش نے منگل کو میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دگ وجے سنگھ کے تبصرے کے بارے میں جو کچھ کہنے کی ضرورت تھی وہ ہو چکی ہے۔ سوال اب وزیر اعظم سے پوچھے جائیںجے رام رمیش نے کہاکہ کانگریس پارٹی نے جو چاہا کہا۔ میں نے کل اسی حوالے سے ٹویٹ کیا تھا۔ میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔










